53

انجلینا جولی کا ”امید کی شہزادی“ سے کیا تعلق ہے؟ جانئے بلوچستان کے صحرا میں کھڑی ”امید کی شہزادی“ تک کیسے سفر کیا جائے۔

امید کی شہزادی“ کا نام جیسے ہی سنا جائے تو ذہن میں آتا ہے کہ جیسے یہ کوئی مصر کی شہزادی کا نام ہو ، جس کے وجود نے اس زمانے کے لوگوں کے اندر امید کی شمع روشن رکھی ہو۔ یوں اسے اس نام سے پکارا جانے لگا ہو ۔ تاہم ذہن میں آنے والی اس سوچ سے ہٹ کر ایک الگ ہی کہانی ہے اس شہزادی کی۔ آئیے جانئے ۔
 
بلوچستان کے ویرانوں میں کھڑی یہ شہزادی کون ہے ؟
صوبہ بلوچستان میں کئی ساحلی مقامات اور خوبصورت وادیاں موجود ہیں ، جن کا کوئی ثانی نہیں۔ مگر کئی مقامات کی خوبصورتی سے لوگ واقف تک نہیں، یہاں تک کہ سالوں سے خاموش کھڑی ایک شہزادی کو کچھ سال قبل تک کوئی نہیں جانتا تھا ، تاہم مکران کوسٹل کے پہاڑی سلسلے میں پتھر سے تراشے گئے اس پتھر کے مجسمے کو اب ”امید کی شہزادی“ کے نام سے جانا جاتا ہے ۔
 
 
کراچی سے 190 کلومیٹر دور موجود اس مجسمے کی شہزادی نے ایک شاہی انداز کا لباس پہن رکھا ہے ۔ دراز قد یہ شہزادی ایک آن کے ساتھ کھڑی دکھائی دیتی ہے ، تاہم اسے دیکھنے میں ایسا لگتا ہے کہ جیسے اسے کسی چیز کی امید ہو ۔ اس مجسمے امید کی شہزادی کا نام ہولی وڈ کی مشہور اداکارہ انجلینا جونی نے 2002میں تجویز کیا ۔ انجلینا جولی نے اس وقت اقوام متحدہ کی خیر سگالی کی سفیر کی حیثیت سے اس علاقے کا دورہ کیا اور وہ ہنگول نیشنل پارک کی سیر کیلئے آئیں تو انہوں نے سالوں سے اس پہاڑی سلسلے میں موجود شہزادی کو کھڑا دیکھا ۔ اس شہزادی کو دیکھتے ہی ان کے ذہن میں یہ نام آیا اور انہوں نے سالوں سے اس مقام پر موجود اس مجسمے کی شہزادی کا نام ”امید کی شہزادی یعنی پرنسز آف ہوپ“ تجویز کردیا ۔ امید کی اس شہزادی کا نام پھر زبان زد عام ہوگیا اور سالوں سے موجود اس مجسمے کو ایک پہچان سی مل گئی ۔ اس سے قبل بحیرہ عرب کے ساحل کے قریب خاموشی سے کھڑے اس مجسمے سے ہوائیں اور مٹی کے طوفان ٹکراتے، شدید بارشیں ہوتیں لیکن وہ اپنی شناخت کے بغیر وہی موجود رہتی ۔ اس مقام پر اس جیسا ہی ایک اور مجسمہ اسفنکس (Sphinx) موجود ہے ۔ یہ مصر کے مشہور مجسمے اسفنکس سے ہی مشابہت رکھتا ہے ، اس ویران صحرا میں کھڑی یہ شہزادی کا واحد دوست یہی ایک مجسمہ تھا ۔ ماہرین کے مطابق یہ مجسمے 750سال قدیم ہیں اور ایک تاریخی ورثہ ہیں ۔
 
 
یہاں کیسے جائیں ؟
کراچی سے جانے والے افراد کو اس مقام تک پہنچنے کیلئے 4 گھنٹے کا سفر طے کرنا ہوگا ۔ کوشش کریں کہ ویک اینڈپر یہاں آئیں ۔ ہنگول نیشنل پارک تک پہنچنے کے دو طریقے ہیں ۔ 1: کسی ٹور آپریٹر سے بکنگ کروالیں اور پھر آسانی سے یہاں پہنچ جائیں ۔ 2: دوسرا طریقہ یہ ہے کہ گوگل کی مدد سے اس جگہ کا نقشہ محفوظ کرلیں اور پھر خود ہی ڈرائیو کرکے یہاں تک آجائیں ۔ یہاں آنے کیلئے پہلے حب تک آئیں پھر زیرو پوائنٹ کی طرف سفر کریں ۔ مکران کوسٹل ہائی وے پر سفر کرتے ہوئے آپ کو نہایت ہی خوبصورت مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں جو کہ اس سفر کو یادگار بنانے کے ساتھ آپ کو تھکنے بھی نہیں دیتے ۔ اس سفر کو جاری رکھنے کے دوران ہی آپ ہنگول نیشنل پارک تک پہنچ جائیں گے ۔
 
 
 یاد رکھیں کہ روڈ کا یہ سفر کچھ مقامات پر نہایت ہی مشکل بھی ہے کیونکہ ہائی وے پر سہولیات کی عدم دستیابی اس سفر کو مشکل بناتی ہے ۔ کوشش کریں کہ اپنے ساتھ ایکسٹرا فیول (اضافی پیٹرول) وغیرہ ضرور لے کر جائیں تاکہ آپ کو پیٹرول کے ختم ہو جانے جیسے مسئلے کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ وہاں کوئی مکینک یا آٹو شاپس نہیں ہیں ، اس لئے گاڑی کو ٹھیک کرنے کے کچھ اوزار ساتھ رکھیں تاکہ بوقت ضرورت ان کا استعمال کیا جاسکے ۔ کوشش کریں کہ آپ کی گاڑی کی کنڈیشن بہترین ہو اور اس میں کسی قسم کا مسئلہ نہ ہو ۔ اگر گاڑی میں کوئی مسئلہ ہے تو اس کی مدد سے یہاں کا سفر ہرگز نہ کریں ۔
 
خرچہ اور سامان :
اگر آپ کسی ٹور آپریٹر کو بُک کرنا چاہتے ہیں تو کراچی سے ہنگول نیشنل پارک تک آنے کیلئے فی بندہ 3500 سے 5 ہزار تک پیسے ادا کرنے ہوتے ہیں ۔ ٹور آپریٹرز ائیر کنڈیشنڈ بس میں دو طرفہ یعنی آنے جانے کا سفر طے کرواتے ہیں ۔ ساتھ ہی ٹور آپریٹرز اس دوران صبح کا ناشتہ، دوپہر کا کھانا پینا، پانی کی بوتلیں، سوفٹ ڈرنکس، اسنیکس ودیگر اشیا بھی مہیا کرتے ہیں، اس کے علاو ہ فوٹو گرافرز تصاویر بھی کھینچتے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ خود سے جانے کے خواہشمند ہیں انہیں بھی اپنے ساتھ کھانے پینے کی چیزیں، اسنیکس، کیمرہ وغیرہ ضرور لے جانا چاہئے تاکہ وہ امید کی شہزادی کے پاس کھڑے ہوکر یادگار تصاویر کھینچ سکیں ۔
 
 
امید کی شہزادی اور ہنگول نیشنل پارک میں آنے والے لوگوں کی تعداد اب گزرتے وقت کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے، تاہم اس تاریخی کو ورثے کو محفوظ کرنے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ہیں ۔ جو لوگ یہاں آتے ہیں وہ اس مجسمے کے قریب موجود دیواروں وغیرہ پر نوکیلی چیزوں یا مارکر وغیرہ سے اپنے اور اپنے پیاروں کے نام لکھ دیتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کئی مقامات پر آپ کو لوگوں کے نام لکھے ہوئے دکھائی دیں گے جو اس جگہ کی خوبصورتی اور اس تاریخی ورثے کو متاثر کرتے ہیں ۔
 
بلوچستان کی یہ پٹی کئی اہم سیاحتی مقامات اور تاریخی لحاظ سے اہم ہے۔ کنڈ ملیر، ہنگول نیشنل پارک، ہنگلاج ماتا اور پرنسس آف ہوپ، اُور ماڑہ اور گوادر سمیت متعدد سیاحتی مقامات ایسے ہیں جنہیں سجانے، سنوارنے اور بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی بلوچستان حکومت کو یہاں سڑکوں کی حالت زار کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ یہاں آنے والوں کیلئے ریسٹ ہائوس، ہوٹلز ، کھانے پینے کی اشیا کی دکانیں ، پیٹرول پمپ اور دیگر اہم بنیادی اشیائے ضرورت فراہم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ یہاں کی سیاحت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں