64

بلڈ گروپ سے واقفیت کیوں ضروری ہے؟ وہ معلومات جو بہت کم لوگ جانتے ہوں گے

کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ کے خون کا گروپ کیا ہے؟ ہوسکتا ہے آپ کو معلوم ہو، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بیشتر افراد اپنے بلڈ گروپ سے متعلق واقفیت نہیں رکھتے حالانکہ اس سے متلق واقفیت کچھ مخصوص اور موذی امراض سے محفوظ رہنے کے لئے معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ اِنسانی خون میں بنیادی عناصر تو یکساں ہوتے ہیں مگر اس میں کچھ مختلف چیزیں اسے 4 بلڈ گروپس میں تقسیم کرتی ہیں۔

ان چاروں بلڈ گروپس کو جو چیز ایک دوسرے سے اَلگ کرتی ہے وہ اینٹی جنز ہیں یعنی ایسے پروٹینز یا کاربوہائیڈریٹ جو خون میں شامل ہوکر اینٹی باڈیز بنانے کو عمل کو تیزی سے انجام دہتے ہیں۔

مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق مختلف بلڈ گروپس جسم پر مختلف طرح سے اثرانداز ہوتے ہیں۔

1- بلڈ کلاٹ یا خون جمنے اور گاڑھا ہونے کا خطرہ

ڈنمارک میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ بلڈ گروپ اے بی، اے اور بی کے حامل افراد کی ٹانگوں کے نچلے حصے میں بلڈ کلاٹ کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے جو کہ سفر کر کے پھیپھڑوں تک جا کر جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔ اس سلسلے میں 60 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا 30 سال تک جائزہ لیا گیا اور معلوم ہوا کہ اوپر درج کئے گئے بلڈ گروپس والے افراد میں بلڈ کلاٹ کا خطرہ او بلڈ گروپ کے حامل افراد کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ پایا جاتا ہے۔

2- امراضِ قلب( دل کی بیماری)

اے بی، اے اور بی بلڈ گروپس کے حامل افراد میں امراض قلب کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کی دو دہائیوں سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی ایک تحقیق میں77 ہزار افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جس سے یہ نتیجہ سامنے آیا کہ اے بی بلڈ گروپ کے حامل افراد میں دل کی بیماری کا خطرہ، او بلڈ گروپ کے مقابلے میں 23 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ اِسی طرح بی بلڈ گروپ والے لوگوں میں یہ خطرہ 11 فیصد اور اے بلڈ گروپ میں پانچ فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ محققین کے خیال میں یہ بلڈ گروپس صحت کے لئے نقصان دہ کولیسٹرول کی مقدار زیادہ بناتے ہیں۔

3- معدے کا کینسر

اے بلڈ گروپ کے حامل افراد میں معدے کے کینسر کا خطرہ کسی اور بلڈ گروپ کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ یہ بات سوئیڈن میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی، خاص طور پر اگر اس بلڈ گروپ کے حامل افراد سگریٹ نوشی کے عادی ہوں تو یہ خطرہ زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں او بلڈ گروپ والے افراد میں معدے کے السر کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

4- بانجھ پن

او بلڈ گروپ والی خواتین میں بانجھ پن کا امکان دیگر عورتوں کے مقابلے میں دو گنا زیادہ ہوتا ہے، جس کا اہم سبب جسم میں ایک ہارمون ایف ایس ایچ کی سطح کا زیادہ ہونا ہے جو ایسے اجزاء میں کمی لاتی ہے جو کہ بانجھ پن سے بچاتے ہیں۔ البرٹ آئن اسٹائن کالج آف میڈیسن کی تحقیق میں اس حوالے سے کوئی واضح وجہ تو نہیں بتائی گئی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ زیادہ تشویشناک امر نہیں، عمر بڑھنا اس سے بھی زیادہ بڑا رسک فیکٹر ہوتا ہے۔

5- دماغی تنزلی اور یاداشت سے محرومی

ایک تحقیق کے مطابق جن لوگوں کے خون کا گروپ اے بی ہوتا ہے، ان میں ادھیڑ عمری یا بڑھاپے میں یادداشت سے محرومی کا شکار ہوجاتے ہیں، اس کی وجہ VIII نامی پروٹین کی زیادہ مقدار ہونا ہے جو یاداشت کے مسائل کا خطرہ انسان میں 24 فیصد تک بڑھاتا ہے۔

6- فالج کا خطرہ

ایک تحقیق کے مطابق او بلڈ گروپ کے حامل افراد کے مقابلے میں دیگر بلڈ گروپس والے افراد میں خون کی شریانوں کے مسائل جیسے دل کا دہرہ یا فالج وغیرہ کا خطرہ 9 فیصد تک زیادہ ہوتا ہے۔ محققین اب بھی تحقیق کر رہے ہیں کہ اس کی کیا وجہ ہوسکتی ہے، تاہم ایک امکان یہ ہے کہ دیگر گروپس میں ایک مخصوص پروٹین کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو بلڈ کلاٹ اور فالج وغیرہ کا باعث بنتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں