138

بندر کی بیوقافی ایک انتہائی غیر سیاسی کہانی

بہت سالوں کی بات ہے کہ ایک شہر میں ایک سوداگر جو ہیروں اور جواہرات کا کام کرتا تھا سیر کے دوران شہر سے باہر ایک خوشنما مقام پر پہنچا تو اس نے ایک خوبصورت جگہ دیکھی جو کہ چاروں طرف سے سبزہ سے گھری ہُوئی تھی۔

ساتھ میں ایک پہاڑی تھی جس پر بہت اونچے اور گھنے درخت اُگے ہُوئے تھے اور جگہ کی خوبصورتی کو اور بڑھا رہے تھے۔ سبزہ اور درختوں کی وجہ سے وہاں کا موسم بھی خوشگوار تھا۔ سوداگر نے اپنے مشیر سے مشورہ کیا کہ کیوں نہ یہاں ایک شایان شان محل تعمیر کیا جائے۔ مشیر نے اس کی بات کی تائید کی تو سوداگر نے وہ جگہ خرید لی۔

سوداگر کے کہنے پر وہاں محل کی تعمیر کے لیے ایک خوبصورت نقشہ بنایا گیا جو کہ سوداگر کو پسند آیا اور اس نے محل کی تعمیر کی منظوری دے دی۔ راج مزدور لوہار ترکھان ان سب کو بلایا گیا۔ اور وہاں پر تعمیر کا کام شروع کر دیا گیا۔

محل کی تعمیر پر کاریگر اور مزدور صبح شام کام کرتے اور دوپہر ہونے پر کام میں وقفہ کر کے کھانا کھاتے کچھ دیر آرام کے بعد دوبارہ کام شروع کرتے اور شام تک کام جاری رکھتے اور رات کو وہیں پر قیام کرلیتے۔

ایک دن بندروں کا گروہ اچھلتا کودتا وہاں پہنچا تو بہت سے لوگوں کو وہاں کام کرتے دیکھا۔ وہ وہیں درختوں میں چھپ کر ان کو کام کرتے دیکھتے رہے۔ دوپہر کو جب تمام کاریگر مزدور کھانا کھانے کا وقفہ کر کے چلے گئے تو بندر درختوں سے نیچے اترے اور وہاں کاریگروں کے اوزاروں سے کھیلنے لگے۔

ایک بندر وہاں موجود ایک بڑے شہتیر پر چڑھ گیا۔ شہتیر کو چیرا جارہا تھا اور کھانے کے وقفہ پر جانے سے پہلے ایک پھال چیر پر رکھ کر ٹھونک دی گئ تھی تا کہ دراڑ مل نہ جاۓ۔ بندر نے پھال کو نکالنے کی کوشش شروع کر دی۔ اچانک پھال دراڑ میں سی نکل گئ۔ اسوقت بندر کا پاؤں دراڑ پر تھا جو دراڑ بند ہونے پر اس میں پھنس گیا۔ بندر نے چیخو پکار شروع کر دی کیونک پاؤں پھنس جانے کی وجہ سے اسے بہت تکلیف ہو رہی تھی۔

کاریگر بھاگ کر آۓ اور بندر کے پاؤں کو دوبارہ پھانس لگا کر دراڑ میں سے نکالا۔ اس کی مرہم پٹی کی اور چھوڑ دیا۔

اگلے دن سوداگر وہاں آیا تو اُسے بتایا گیا کے بندروں کے ایک گروہ نے کام کرنے والی جگہ پر ہلا بول دیا تھا جس سے ہمارا کافی نقصان ہُوا اور ایک بندر شدید زخمی ہُوا جسے ہم نے مرہم پٹی کر کے چھوڑ دیا۔

سوداگر مزدوروں پر برہم ہُوا کے تمہیں ایسے شریر بندروں کو جانے نہیں دینا چاہیے تھا اور اُنہیں پکڑ کر پنجرے میں قید کر دینا چاہیے تھا ، کیونکہ یہ بندر اس کام کی جگہ کو دیکھ گئے ہیں اور کسی بھی وقت دوبارہ ہلا بول کر مزید نقصان کر سکتے ہیں.

آئندہ وہ یہاں آئیں تو اُنہیں جانے نہ دینا اور جتنے پکڑے جا سکیں اُنہیں پکڑ کر ایک پنجرے میں بند کر کے پنجرہ کسی اونچی جگہ پر رکھ دینا تا کہ باقی بندر قیدی بندروں کو دیکھ کر سبق حاصل کر سکیں اور کہیں دُور بھاگ جائیں۔

اس کہانی سے 2 نتیجے اخذ کیے جا سکتے ہیں ایک یہ کہ وہ کام جس کی سمجھ نہ ہو نہیں کرنا چاہیے ورنہ اگر پاؤں پھنس گیا تو بڑی مشکل ہو جاتی ہے جیسا کہ بندر کے ساتھ ہوا۔دوسرا نتیجہ آپ اپنے ذہن کے مُطابق موجودہ ملکی حالات کو دیکھتے ہُوئے کمینٹ میں رقم کر سکتے ہیں لیکن یاد رہے نتیجہ غیر سیاسی ہونا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں