62

بیرون ملک پڑھائی ، والدین داخلے کیلئے ’’کالج‘‘ کا انتخاب کرنے میں کیسے مدد کریں؟

والدین بچوں کی پڑھائی کے سلسلے میں بہت حساس ہوتے ہیں ۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کے بچے بہترین تعلیمی اداروں میں پڑھیں اور کامیاب رہیں ۔ بچّوں کے لیے جب کالج کے انتخاب کا وقت آتا ہے تو بہت سارے والدین بے چین اور تشویش میں مبتلا ہو جاتے ہیں ، انہیں سمجھ نہیں آتا کہ کس تعلیمی ادارے کو وہ اپنے بچے کیلئے چنیں ۔اعلیٰ تعلیم کے لیے کسی مناسب ادارے کو چننا یقینی طور پر ایک بڑا اہم کام ہوتا ہے اور اس کا فیصلہ بہت ہی ذمہ داری کے ساتھ کرنا پڑتا ہے ۔
 
اب چونکہ بچوں کو خود تو اتنا آئیڈیا نہیں ہوتا اس لئے اس سلسلے میں والدین ہی اپنے بچوں کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔ لیکن وہ ساتھ ہی ذہن میں یہ رکھیں کہ وہ اپنی چوائس تو بچوں کو بتاسکتے ہیں لیکن چونکہ پڑھنا انہیں خود ہے ، اس لئے داخلے سے متعلق حتمی فیصلہ بچوں کو ہی کرنا چاہئے کیوں کہ کالج یا یونیورسٹی ایسی جگہ ہے جہاں طلبہ ہی کو آئندہ چند برس گزارنے ہیں۔
 
 
دوسروں سے مدد لیں :
یونیورسٹیوں کو شارٹ لسٹ کرنے کے دوران درجہ بندی پر غور کرنے کیلئے طلبہ کو اپنے ایسے ساتھیوں اور متعلقین سے مدد مل سکتی ہے جو کہ اس حوالے سے تجربہ رکھتے ہوں ۔ اس سے انہیں کالجز کی ایک ابتدائی فہرست بنانے میں مدد تو مل سکتی ہے مگر طلبہ ہمیشہ تعلیمی ترجیحات اور متعلقہ معاملات (ادارہ کیسا ہے ، جماعت میں طلبہ کی اوسط تعداد کتنی ہے ، ادارہ کس مقام پر واقع ہے ، وہاں تحقیق اور عملی تربیت کے مواقع کتنے ہیں) پر مبنی معلومات خود بھی پتا کرنی ہوں گی تاکہ انہیں کالج کی لسٹ فائنل کرنے میں آسانی ہو ۔
 
 بیرون ملک میں طلبہ کیلئے بے شمار اچھے تعلیمی ادارے موجود ہیں ، صرف امریکا میں ہی چار ہزار سات سو سے زائد تسلیم شدہ اعلیٰ تعلیمی ادارے ہیں۔ ایسے میں طلبہ کے پاس بے پناہ مواقع، اختیارات اور متبادل موجود ہیں ، طلبہ اداروں کی ویب سائٹ پر جاکر انڈر گریجویٹ اور گریجویٹ پروگرام کے لیے چیک لسٹ دیکھ سکتے ہیں، جس سے طلبہ کو اپنی ترجیحات کو ایک شکل دینے اور کالج کے انتخاب میں مدد مل سکتی ہے۔
 
تعلیمی ماہرین کہتے ہیں کہ اگر آپ کا بچہ بیرون ملک میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس سے کھل کر بات کریں۔اگر آپ اس کے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے خیال سے اتفاق رکھتے ہیں تو ایسا ماحول بنائیں جس سے اسے حمایت اور جوش کا احساس ہو۔ بچے کو یہ مشورہ بھی دینے کی کوشش کریں کہ وہ متبادل پر نظر رکھے جس میں بیک اَپ پلان کی بھی گنجائش ہو۔ساتھ ہی مندرجہ ذیل باتوں پر بھی ضرور غور کریں ۔
 
 
فیس کا خرچہ:
کسی بھی کالج کے انتخاب کے عمل میں ایک اہم پہلو یہ امر ہے کہ تعلیم کا خرچ کون اٹھائے گا۔ مطالعے کی سطح کی بنیاد پر مکمل طور پر دو یا چار سالوں کے لیے تعلیم کی متوقع کل لاگت کا منصوبہ بنانے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ کے بچے کے خوابوں کے ادارے کی فیس آپ کی دسترس سے باہر ہے تو یہ بات بچے پر شروع ہی میں واضح کر دینے کی ضرورت ہے۔اس سے بچوں کو والدین کے ”نا“ کہنے کی مناسب وجہ سمجھنے میں آسانی ہوگی۔
 
تعلیمی کورس اور اداروں سے رہنمائی:
سیکڑوں کالجوں میں بظاہر ایک طرح کے ڈگری پروگرام کی موجودگی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر تعلیمی پروگرام ایک جیسا ہوتا ہے۔مختلف پروگرام کے لیے فنِ تعلیم، پڑھائی کی تدابیر، تحقیق یا عملی توجہ کے طریق کار الگ ہو سکتے ہیں، لہٰذا ایسا ہو سکتا ہے کہ بعض پروگرام آپ کے بچوں کی دلچسپی اور پیشہ ورانہ اہداف کے حساب سے بہتر معلوم ہوں اور بعض بہتر معلعم نہ ہوں ۔ اسلئے یہ ضروری ہے کہ اپنے بچوں کے ساتھ آپ بھی کالج کی ویب سائٹ دیکھیں اور بین الاقوامی طلبہ کے لیے مخصوص میجر اور مائنر مضامین کی تفصیلات حاصل کریں اور زیادہ معلومات کے لیے یونیورسٹی سے ای میل کے ذریعے رابطہ قائم کریں۔
 
 
کالج سے متعلق معلومات :
اپنے بچے کے لیے مناسب کالج کے انتخاب کے دوران مختلف متبادل کالجز زیر غور ضرور لائیں۔ اگر ایسے کالجوں کا دورہ ممکن نہیں ہو تو آپ ان کے کیمپسز کو آن لائن دیکھیں۔ بہت سارے اعلیٰ تعلیمی اداروں نے آن لائن اپنے کیمپس کی تفصیلات فراہم کی ہوتی ہیں جو کہ بیرون ملک سے تعلیم حاصل کرنے کیلئے آنے والے طلبہ کی رہنمائی کرنے میں مددگار ہوتے ہیں۔
 
غیر نصابی سرگرمیاں:
غیر نصابی سرگرمیوں کے بغیر کالج کی زندگی نامکمل ہے۔ اگر آپ کا بچہ کوئی غیر نصابی سرگرمی کا شوق رکھتا ہے یا اسے کسی چیز میں بہت دلچسپی ہے تو ایسے کالج کا انتخاب کریں جہاں اس کے شوق اور دلچسپی کی تکمیل کے وسائل موجود ہوں ۔
 
 
بچوں کو فیصلہ کرنے کی آزادی دیں:
بچوں کیلئے درست کالج کی تلاش آسان نہیں۔ بعض طلبہ اس کے لیے بڑا قدم اٹھانے کو آمادہ ہو سکتے ہیں مگر بعض دیگر تذبذب کا شکار بھی ہو سکتے ہیں، لہٰذا بچوں کو آپ کی مسلسل حمایت نہایت اہم ہے۔ اپنے بچے کی خواہشات، خدشات اور سوالات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کی کوشش کریں۔ بچوں کے لیے تمام کام خود کرنے کی بجائے ان کو بااختیار بنائیں تاکہ وہ خود سوالات کے جواب تلاش کر سکیں۔ انہیں فیصلہ کرنے کی پوری آزادی دیں۔ آپ کے بچے کے لیے ایک بہترین ادارہ تلاش کرنے کا یہ تجربہ اپنے آپ میں ایک اعلیٰ تعلیمی عمل ہے جو بچے کو زندگی کی ضروری صلاحیتوں سے آراستہ کرے گا اوراس کے لیے کار آمد ثابت ہوگا کیوں کہ وہ اب تعلیم کی ایک سطح سے دوسری سطح اور ایک تعلیمی نظام سے دوسرے تعلیمی نظام کی جانب منتقل ہونی کی تیاریوں میں ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں