30

قصور لیجا کر عابد نے کیا کِیا؟

پنجاب کے شہر لاہور سے اُٹھائی جانے والی دسویں جماعت کی طالبہ کا بیان سامنے آ گیا ہے۔لڑکی نے بتایا کہ ملزم عابد یا اس کے کسی ساتھی نے زـیا_دتی نہیں کی۔طالبہ نے پولیس کو بتایا کہ عابد نے پاکپتن لے جاکر زبردستی نکاح کی کوشش کی۔نکاح سے انکار پر مجھ پر تشدد بھی کیا گیا،اُٹھانے کے بعد ملزمان مجھے قصور لے

گئے۔طالبہ کے مطابق ملزم فون پر کسی وکیل سے بار بار بات کرتا رہا، ملزمان پولیس کے آنے سے پہلے مجھے پاکپتن لے گئے تھے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملزنان نے قصور نکلتے وقت اپنا فون بند کر دیا تھا۔طالبہ کے مطابق ملزمان نے مجھے عارف والا کے ایک بس اڈے پر چھوڑ دیا تھا جہاں پولیس آ گئی۔پولیس کا کہنا ہے کہ طالبہ کا آج مجسٹریٹ کے روبرو 164 کا بیان ریکارڈ کرایا جائے گا۔پولیس کے مطابق طالبہ کو ہفتے کے روز لاہور کے علاقے شادباغ سے اُٹھایا گیا تھا۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد امیر بھٹی نےواقعہ کاازخود نوٹس کیس میں مغوی کی بازیابی پر کیس نمٹا دیا۔عدالت نے کہا کہ آئی جی پنجاب اور سی سی پی او کے اقدامات قابل ستائش ہیں۔قبل ازیں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ازخود نوٹس کیس کی سماعت شروع کی تو دوران سماعت عدالت نے آئی جی پنجاب کی مہلت کی استدعا مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ رات دس بجے تک بچی بازیاب نہ ہوئی تو آئی جی پنجاب اور سی سی پی او کو ہٹادیا جائے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ آئی جی ،سی سی پی او سے ایس ایچ او

تک تمام افسران کو عہدے سے ہٹانے کا وزیراعظم کو لکھیں گے۔چیف جسٹس لاہور ہائی جسٹس محمد امیر بھٹی نے اتوار کی رات ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ عدالتی حکم پر آئی جی پنجاب ، سی سی پی او سمیت سرکاری وکلاجواد یعقوب اور عبدالعزیز اعوان عدالت میں پیش ہوئے جبکہ عدالت میں ایڈیشنل رجسٹرار سکیورٹی رائے ظہور بھی عدالت میں موجود تھے۔چیف جسٹس نے طالبہ کے بازیاب نہ ہونے پر آئی جی

پنجاب اور سی سی او پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا فائدہ ہوا اتنی کوشش کا کہ بچی رات گھر سے باہر

رہے یہ میری بچی ہے آپکو بھی اپنی بچی سمجھنی چاہیے آپکو تمام راستے بند کرنے چاہیں تھے، آئی جی نے عدالت کو بتایا کہ بچی کی ساہیوال میں تلاش جارہی ہے،طالبہ کی بازیابی کے لیے

کوشش کررہے ہیں۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ بچی آپکے ہاتھوں سے لیکر ساہیوال چلے گئے اور آپ کچھ نہ کر سکے،عدالت اس وقت اس لیے نہیں بیٹھی کہ آپ کو مہلت دے۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب جواد یعقوب نے موقف اختیار کیا کہ طالبہ بازیابی کیس میڈیا پر نشر نہ ہونے دیا جائے جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ میڈیا پر ہم دے رہے ہیں یا انوسٹی گیشن افسران ؟ چیف جسٹس امیر بھٹی نے آئی جی پنجاب کی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ میں ابھی وزیراعظم کو کہتا ہوں آئی جی اور سی سی پی او کو ہٹایا جائے آئی جی پنجاب نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ہماری غفلت ہے ہم مانتے ہیں آئی جی پنجاب نے مغوی بچی کی بازیابی کے لیے مہلت کی استدعا کی چیف جسٹس نے مہلت دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے آئی جی پنجاب کو رات دس بجے تک مغوی طالبہ کو بازیاب کرانے کی مہلت دیتے ہوئے قرار دیا کہ دس بجے تک بچی کو بازیاب کروالیں ورنہ عہدہ پر نہیں رہیں گے۔عدالت وزیراعظم کو لکھے گی کہ نااہل افسران کو عہدے سے ہٹائیں۔

وقفہ کے بعد رات دس بجے کے بعد عدالت نے دوبارہ سماعت شروع کی تو آئی جی پنجاب نے عدالت میں جواب جمع کرواتے ہوئے آگاہ کیا کہ طالبہ کو بازیاب کروالیا گیا, طالبہ کو عارفوالہ سے بازیاب کروایا گیا۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بھی تصدیق کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ مغوی طالبہ کو بازیاب کروالیا گیا ہے،طالبہ کی وڈیو کال پر بات کروائی گئی ہے جس پر چیف جسٹس نے طالبہ کے والد کو روسٹرم پر بلا کر استفسار کیا کہ کیا آپکی بیٹی بازیاب کرالی گئی ہے مغوی طالبہ کے والد نے عدالت کو بتایا کہ انکی بچی بازیاب کرالی گئی ہے چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ایک بچی نہیں بلکہ پورے خاندان کا معاملہ ہے ہم سب نے ملکر بچی کو بازیاب کروانے میں مدد کی۔آئی جی پنجاب اور بچی کے والد کے مغوی طالبہ کی بازیابی کے بیان پر چیف جسٹس نے ازخود نوٹس کیس نمٹا دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں