54

ٹینشن کے دوران مستقل منہ چلے گا تو وزن بھی بڑھے گا ۔۔ اب ڈپریشن میں یہ سات چیزیں کھائیں ، پئیں، وزن نہیں بڑھے گا!

کثر لوگ ذہنی دباؤ کے دوران مستقل کھاتے رہتے ہیں ، ان کا منہ چلتا رہتا ہے ۔ جب انسان اضطرابی کیفیت میں ہوتا ہے ، اسے بے چینی ہوتی ہے ، وہ ذہنی دباؤ اور ٹینشن کا شکار ہوتا ہے تو وہ زیادہ کھانے لگتا ہے ۔ اسے ہر وقت بھوک سی محسوس ہوتی ہے اور مستقل کھانے پینے کی وجہ سے اس کا وزن بھی تیزی سے بڑھنے لگتا ہے ۔ لیکن یہ لوگ اس بات کی طرف توجہ نہیں دیتے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وزن بڑھنے کی وجہ سے مزید کئی طبی مسائل انہیں درپیش ہونے لگتے ہیں ۔
 
جدید دور میں انسان کی زندگی اتنی تیز ہے کہ اس ٹینشن خود بخود ہو جاتی ہے ۔ ذہنی دباؤ کا انسان خود ہی شکار ہو جاتا ہے ۔ ایسی صورت میں وہ کھانے پینے میں خوشی محسوس کرتے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ انہیں سکون کھانے پینے سے ہی ملے گا ۔ یوں وہ اپنی صحت کے دشمن بنتے ہوئے زیادہ کیلوریزوالی اشیا کھاتے جاتے ہیں ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی کئی چیزیں ہیں جو ذہنی دباؤ اور ٹینشن کا شکار افراد اپنے دھیان کو بٹانے کیلئے کھاسکتے ہیں ، ساتھ ہی ان چیزوں کو کھانے سے ان کا وزن بھی نہیں بڑھے گا ۔ وہ چیزیں کیا ہیں، آئیے جانئے ۔
 
میٹھی ڈشز نہیں، چیونگ گم کھائیں:
اگر کسی کو اسٹریس یا ٹینشن کے دوران میٹھا کھانے کا دل کرتا ہے اور وہ ڈونٹ اور اس جیسی چیزیں کھانے کی طرف زیادہ توجہ دیتا ہے تو غلط کرتا ہے ۔ اس لئے کوشش کریں کہ ڈونٹ کے بجائے ”چیونگ گم“ کھالیں۔ کم میٹھی چیونگ گم کا انتخاب کریں ، اسے استعمال کرنے سے اسٹریس لیول کم ہوگا اور آپ خود کو ذہنی دباؤ سے آزاد اور پرسکون محسوس کرنے لگیں گے ۔ ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ کم میٹھی چیونگ گم کا استعمال کرتے ہیں ، ان کی کیوریز کم ہونے لگتی ہیں ۔ یوں اس کے استعمال سے وزن بڑھنے کے بجائے کم ہوگا ۔
 
سبز چائے پئیں :
ہر وقت ٹینشن میں ریفریجریٹر کے سامنے کھڑے ہونے کے اور اس میں سے چیزیں ڈھونڈ کے کھانے کے بجائے کوشش کریں کہ جاکر سبز چائے بنائیں اور وہ پی لیں ۔ اس سے آپ نا صرف خود کو سکون میں محسوس کریں گے بلکہ اس کی وجہ سے جسم کو مناسب نمی ملتی ہے اور زہریلے اجزا کا خاتمہ ہوتا ہے ۔ لیمن ٹی بنالیں یا کوئی بھی اچھی سی مختلف انداز کی چائے بنائیں ، جس سے وزن بڑھنے کے بجائے کم بھی ہو اور آپ کی بلاوجہ کی بھوک بھی ختم ہوجائے ۔ لیموں اور تلسی کے پتوں والی چائے انسان کا اسٹریس ختم کرنے میں معاون ہوتی ہے ۔ ریڈ ٹی میں موجود اینٹی اوکسیڈنٹس انسان کی ڈائٹ کو کنٹرول میں رکھتے ہیں ، یوں وزن بھی نہیں بڑھتا ۔
 
لیمونیڈ / لیموں پانی کا استعمال :
ہمارے یہاں بننے والی روایتی چائے ، کافی اور شوگر والی سوفٹ ڈرنکس کا استعمال کرنے کے بجائے کے بجائے کوشش کریں کہ لیموں پانی یا لیمونیڈ بناکر پی لیں ۔ کیونکہ چائے، کافی وغیرہ میں کیفین موجود ہوتا ہے۔ ساتھ ہی شوگر سوفٹ ڈرنکس پینے کی وجہ سے جسم میں ”ایڈرینالین“ کی مقدار بڑھنے لگتی ہے ، جس کی وجہ سے اسٹریس اور اضطرابی کیفیت مزید بڑھ جاتی ہے ، ان ڈرنکس کو پینے کے بعد انسان کا مزید کچھ کھانے پینے کا دل کرنے لگتا ہے اور وہ اسٹریس میں مزید کھانے لگتا ہے ۔ وہ لوگ جنہیں اضطرابی کیفیت رہتی ہے، انہیں چاہئے کہ وہ صبح ناشتے میں روایتی چائے پینے کے بجائے لیموں پانی پی لیں ، دوپہر میں سوفٹ ڈرنکس کا استعمال کرنے کے بجائے سادہ لیمونیڈ پئیں ۔ اس سے ان کا اسٹریس کم ہوگا اور ان کا وزن بھی کم ہوگا ۔
 
 چٹ پٹے کھانے ، لیکن روزانہ نہیں:
کئی ریسرچ سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اسپائسی فوڈ یا مرچوں میں موجود کیپسائی سن نامی جز جسم کے فیٹ کو کم کرنے کا باعث ہوتا ہے ، یوں اسپائسی کھانے انسان کے وزن کو کم کرسکتے ہیں ۔ اگر زیادہ ٹینشن میں کچھ کھانے کا موڈہو تو اسپائسی چیزیں کھالیں ، لیکن زیادہ مقدار میں اور ہروقت ہرگز نہ کھائیں، کبھی کبھار اسپائسی فوڈز کھایا جاسکتا ہے ، کیونکہ اس سے وزن بھی کم ہوگا اور آپ چٹ پٹے کھانے کھاکر خود کو پرسکون محسوس کریں گے۔
 
لال اور پیلی ڈشز نہیں:
کیا آپ جانتے ہیں کہ رنگ بھی آپ کے کھانے کی روٹین پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ یعنی لال اور پیلے کھانے جیسے باربی کیو، قیمہ، قورمہ اور اسپیگٹی وغیرہ کو کھایا جائے تو یقیناً یہ وزن بڑھانے کا سبب بن رہے ہوتے ہیں ۔ کیونکہ یہ دیکھنے میں یہ اتنے مزیدار لگتے ہیں کہ انسان کی بھوک مزید بڑھ جاتی ہے اور وہ ذہنی تناؤ کی کیفیت میں بھوک سے زیادہ کھانے لگتا ہے ۔ اسلئے کوشش کریں کہ سلاد اور سبزیوں کی طرف زیادہ توجہ دیں ۔ اس کے ساتھ کبھی کبھار ہلکا پھلکا باربی کیو آئٹم شامل کرلیں ۔ تاہم خوشنما رنگوں والے مزیدار کھانے کم کھائیں ۔ اس طرح وزن بھی نہیں بڑھے گا ۔
 
”خوشی کے ہارمون“ بڑھانے والی چیزیں:
ایسی چیزوں کا استعمال کریں جو جسم میں ”خوشی کے ہارمون ”سیروٹونن“ کو بڑھانے کا سبب بنتی ہیں ۔ ایسی اشیا اگر کھائی جائیں تو پھر بے چینی اور ذہنی دباؤ بھی ختم ہوتا ہے ۔ یاد رکھیں کہ اگر ”سیروٹونن“ ہارمون کا لیول جسم میں کم ہو تو اس سے بھی انسان افسردہ اور بے چینی محسوس کرتا ہے ۔ لہذا کوشش کریں کہ ایسی اشیا کھائیں جس سے سیروٹونن کی مقدار بڑھ جائے ۔ انناس کھائیں ، پالک ، آڑو ، ایواکاڈو یہ چیزیں زیادہ کھائیں ۔ اس سے جسم میں خوشی بڑھانے والے ہارمون سیروٹونن کی مقدار بڑھےگی، انسان کا موڈ بہتر ہوگا اور اس کی ٹینشن میں بھی کمی آئے گی۔
 
خشک میوے کھائیں :
جب بھی بے وقت بھوگ لگے تو الٹی سیدھی چیزیں کھانے کے بجائے خشک میوے جیسے اخروٹ وغیرہ کھالیں ۔ بے وقت کی بھوک کو مٹانے کیلئے آدھا کیلا کھالیں ۔ تاکہ بھوک کا احساس ختم ہوجائے اور فضول چیزیں کھانے سے آپ کا وزن بھی نہ بڑھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں