134

کیا آپ بھی روزانہ زیادہ چائے پینے کا شوق رکھتے ہیں؟ تو فوراً رُک جائیں، کیونکہ آپ کے ساتھ بھی ۔۔۔۔۔۔

چائے پینے کا شوق ہر شخص کو ہوتا ہے۔ انسان اپنے آپ کو ترو تازہ رکھنے کے لئے چائے جیسے مشروب کا استعمال کرتا ہے۔ دنیا بالخصوص پاکستان میں بھی چائے کو پسندیدہ مشروب سمجھا جاتا ہے اور دن و رات اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

پاکستان کا شمار دنیا بھر میں زیادہ چائے استعمال کرنے والے ممالک میں ساتویں نمبر پر ہوتا ہے۔ یہاں چائے پینے کے لئے کسی موسم اور کسی وقت کی قید نہیں ہے یہ وہ مشروب ہے جو کبھی بھی کہیں بھی پیا جاتا ہے۔ عام طور پر چائے کے عادی افراد دن بھر میں دو کپ سے لے کر بیس کپ تک روزانہ چائے کی مزیدار چسکیوں کا مزہ لیتے ہیں۔

مگر اتنی زیادہ مقدار میں چائے کا استعمال متعدد خطرناک بیماریوں میں مبتلا کرسکتا ہے جن کے بارے میں ہم آپ کو بتائیں گے۔

1- دانت پیلے پڑ جانا

چائے ایک رنگ دار مشروب ہے اور اس کو پینے والے ہر دفعہ اس کو پینے کے بعد دانت صاف کرنا ضروری نہیں سمجھتے ہیں جس کے باعث پیلا رنگ دانتوں کا حصہ بن جاتا ہے اور ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب کہ یہ پیلا رنگ دانتوں میں ہمیشہ بسیرا ڈال لیتا ہے۔

2- آئرن کی کمی

آئرن ہمارے جسم کا ایک لازمی جُز ہے اور یہ خون کے سرخ ذرات کی تیاری کے لئے بہت ضروری ہوتا ہے جس کی ضرورت آئرن سے بھرپور غذا کے استعمال سے پوری کی جا سکتی ہے۔ مگر اس غذا کے ساتھ اگر چائے کا استعمال کیا جائے تو چائے آئرن کو جسم کا حصہ بننے نہیں دیتی اور اس طرح انسان آئرن کی کمی کا شکار ہوسکتا ہے۔

3- بھوک مِٹ جانا

چائے ویسے تو اپنے اندر کسی حد تک غذائیت بھی رکھتی ہے مگر وہ جسم کی تمام ضروریات کی تکمیل نہیں کر سکتی ہے۔ مگر زیادہ چائے کا استعمال معدے پر ایسے اثرات مرتب کرتا ہے جس کے سبب بھوک لگنا بند ہو جاتی ہے اور انسان کا معدہ درست طریقے سے کام نہیں کر سکتا۔

4- پروسٹیٹ کینسر کا خطرہ

کثرت سے چائے پینے والے مرد حضرات کو کم چائے پینے والے افراد کے مقابلے میں پروسٹیٹ کینسر کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے اور یہ بھی چائے کے بدترین اثرات میں سے ایک ہے۔

5- دل کے دورے کے خطرات

چائے کا ایک جز کیفین بھی ہوتا ہے جو کہ بلند فشار خون کا باعث بنتا ہے اور اس کا براہ راست اثر انسان کے قلب اور اس سے جڑی شریانوں پر پڑتا ہے جس کے سبب دل کے دورے کے خطرے کے امکانات کئی حد تک بڑھ جاتے ہیں۔

6- بے خوابی کا باعث بنتی ہے

چائے کا استعمال کرنے کے عادی لوگوں کے خون میں کیفین کی مقدار بڑھنے کے سبب جسم کے ہارمونل نظام پر اثر پڑتا ہے۔ جو کہ اس کو بے چینی، اور کم خوابی میں مبتلا کر سکتے ہیں ایسے افراد کی نیند عام فرد کے مقابلے میں بہت کم ہو جاتی ہے۔

7- ابارشن کے خطرات بڑھ جاتے ہیں

حاملہ خواتین اگر بہت زیادہ استعمال کریں تو خون میں کیفین کی مقدار میں زیادتی کے سبب کوکھ میں موجود بچے کی نشو نمو متاثر ہوتی ہے اور حمل کے اسقاط کے خطرات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

8- قبض کا باعث ہوتی ہے

چائے کے اندر ایک جز تھیوپائلین موجود ہوتا ہے جو کہ نظام انہضام میں موجود پانی کو جذب کر لیتا ہے۔ جس کے سبب قبض کی شکایت پیدا ہو جاتی ہے اور رفع حاجت میں سخت تکلیف ہوتی ہے جس کے باعث بواسیر کا خدشہ بھی ہو سکتا ہے۔

9- خون میں شوگر بڑھ جانا

بہت زیادہ چائے پینے والے افراد چینی شامل کرتے ہیں جس کے سبب ہر ایک کپ کے ساتھ خون میں چینی کی مقدار بھی بڑھ جاتی ہے جو کہ جسم کے لیے مسائل کا سبب بنتی ہے اور ذیابطیس جیسی خطرنا ک بیماری کا با‏عث بن سکتی ہے۔

10- اِخراجات میں اضافے کا سبب

چائے گھر کے بجٹ میں ایک ایسا خرچہ ہے جس کا اِتنا فائدہ نہیں ہوتا اس کے باوجود پتی چینی اور دودھ کی مد میں ایک بڑے خرچے کا باعث بنتی ہے۔

یاد رہے کہ کسی بھی چیز کا ضرورت سے زیادہ استعمال آپ کی صحت کے لئے مضر ہوسکتا ہے، چاہے وہ کوئی مشروب ہو یا پھر کھانے پینے کی اشیاء، تمام چیزوں کا استعمال ایک حد تک رہے تو اس سے انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں