وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکرات میں تقریباً 99 فیصد معاملات پر اتفاق ہوگیا تھا، تاہم لانگ مارچ کے معاملے پر مذاکرات کا عمل آگے نہ بڑھ سکا۔

محسن نقوی کے مطابق 12 گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات کے دوران چار مرتبہ ڈرافٹ تبدیل کیا گیا اور بیشتر معاملات پر اتفاق رائے پیدا ہوگیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگر فیصلے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ہی کرنے تھے تو انہیں خود مذاکرات کے لیے آنا چاہیے تھا۔ سہیل آفریدی کو جمعہ کے روز بھی مذاکرات میں شرکت کے لیے کہا گیا اور اگلے دن بھی دعوت دی گئی، تاہم وہ نہیں آئے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کو لانگ مارچ ملتوی کرنے کی درخواست نہیں کی گئی تھی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی کی خواہش تھی کہ لانگ مارچ ملتوی کیا جائے۔

محسن نقوی نے مذاکرات کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی واضح کردیا تھا کہ اگر لانگ مارچ شروع ہوا تو مذاکرات نہیں ہوں گے۔

انہوں نے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے طرزِ عمل سے بعد میں حکومت کو ان کی نیت کا اندازہ ہوا۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اسلام آباد پر بار بار ہونے والے احتجاج اور دھاوے کے سلسلے کو اب ’’ونس فار آل‘‘ ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے اس معاملے کا مستقل بندوبست کرنے دیا جائے، اس کے بعد دیگر معاملات پر بات ہوگی۔

محسن نقوی نے کہا کہ حکومت لانگ مارچ کے حوالے سے مکمل طور پر تیار تھی اور اسے کسی قسم کی گھبراہٹ یا پریشانی نہیں تھی، بلکہ تمام انتظامات مکمل کیے جا چکے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ توہین عدالت سے متعلق جو قانونی کارروائی ممکن ہوئی، وہ کی جائے گی۔

وفاقی وزیر داخلہ نے وزیراعظم اور صدر کے حوالے سے کہا کہ دونوں رہنماؤں کو تمام صورتحال سے مسلسل آگاہ کیا جا رہا ہے اور وہ باہمی مشاورت سے ملک کے مفاد میں فیصلہ کریں گے۔

محسن نقوی کے مطابق وزیراعظم اور صدر کی خواہش نہیں تھی کہ صورتحال اس مقام تک پہنچے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو روز قبل بھی انہیں ہدایت دی گئی تھی کہ ہر ممکن کوشش کی جائے اور مذاکرات میں 99 فیصد کامیابی حاصل کرکے واپس آیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ آنے والے وقت میں صورتحال واضح ہوجائے گی اور ’’بار بار اسلام آباد پر دھاوا بولنے والے ایپی سوڈز‘‘ ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

محسن نقوی نے سہیل آفریدی کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’بلیک میل‘‘ ایک چھوٹا لفظ ہے، وہ اپنے ہی صوبے کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں۔