اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں قومی ریسلر اطہر زاہد کی جانب سے پیر عاصم علی شاہ کے خلاف 50 لاکھ روپے کی مبینہ سرمایہ کاری کے تنازع پر اندراجِ مقدمہ کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے مبینہ جعلی ٹرانزیکشن رسید جمع کرانے کے معاملے پر شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے تھانہ شالیمار کے ایس ایچ او کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا۔

درخواست کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد علی وڑائچ نے کی، جبکہ درخواست گزار کی جانب سے وکیل شیر افضل مروت عدالت میں پیش ہوئے۔

شیر افضل مروت نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کی جانب سے ٹرانزیکشن کی جعلی رسید جمع کرائی گئی ہے، جس پر عدالت نے شوکاز نوٹس جاری کیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 28 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

درخواست کے مطابق اطہر زاہد نے پیر عاصم علی شاہ کو 2022 میں سرمایہ کاری کے لیے 50 لاکھ روپے دیے تھے، جس کے بعد کچھ عرصے تک انہیں منافع کی رقم ملتی رہی۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ جب انہوں نے اصل رقم واپس مانگی تو منافع کی ادائیگی بند کر دی گئی۔

قومی ریسلر اطہر زاہد نے الزام عائد کیا کہ اصل رقم کی واپسی کا مطالبہ کرنے پر انہیں این سی سی آئی اے کی ملی بھگت سے گرفتار کرایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ملزم اب تک ادا کیے گئے منافع کو اصل رقم ظاہر کر رہا ہے۔

قومی ریسلر اطہر زاہد کا مؤقف

عدالت میں پیشی کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اطہر زاہد نے بتایا کہ انہوں نے 2024 اور 2025 میں انٹرنیشنل ریسلنگ چیمپئن شپ کے ٹائٹل جیتے اور بھارتی حریف کو شکست دے کر پاکستان کے لیے اعزاز حاصل کیا۔

انہوں نے پاکستانی عوام کی محبت اور عزت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ انصاف کے حصول کے لیے اپنی قانونی جنگ جاری رکھیں گے اور ملزم کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کی کوشش کریں گے۔

اطہر زاہد نے خدشہ ظاہر کیا کہ ملزم نے دیگر افراد کے ساتھ بھی فراڈ کیا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے وکیل شیر افضل مروت کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے ان کی حمایت کی اور عدالت میں ان کے ساتھ پیش ہوئے۔