اسلام آباد : الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابی عمل کے دوران مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے ضابطہ اخلاق میں تبدیلیوں کا مسودہ تیار کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سیاسی جماعتوں، میڈیا اور انتخابی مبصرین کے لیے مجموعی طور پر 12 ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے مجوزہ ترامیم پر 20 نومبر تک تجاویز طلب کر لی ہیں، جبکہ میڈیا کے لیے ضابطہ اخلاق میں پانچ تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔
مجوزہ ترامیم کے تحت اے آئی سے تیار کردہ مواد پر واضح لیبل لگانا لازمی قرار دینے کی تجویز ہے۔ اسی طرح ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے سیاسی رہنماؤں، امیدواروں اور ریاستی عہدیداروں کی جعلی تصاویر، آواز یا بیانات تیار کرنے پر پابندی عائد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق میڈیا ہاؤسز کو انتخابات سے متعلق مواد کی تیاری اور تجزیے میں مصنوعی ذہانت کے مشروط استعمال کی اجازت دینے کی تجویز ہے۔ تاہم میڈیا اداروں کو اے آئی کے استعمال کی وضاحت کرنے اور تیار کردہ مواد کی درستگی یقینی بنانے کا ذمہ دار قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
مجوزہ ضابطہ اخلاق میں پیمرا، سوشل میڈیا پروٹیکشن ریگولیٹری اتھارٹی اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو اے آئی سے تیار کردہ مواد کی نگرانی کی ذمہ داری دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ ادارے کارروائی کرکے الیکشن کمیشن کو رپورٹ کریں گے۔
مجوزہ ترامیم کے مطابق میڈیا ہاؤسز کو بغیر لیبل کے شائع ہونے والا اے آئی مواد فوری ہٹانے یا اس پر مناسب لیبل لگانے کا پابند بنانے کی تجویز ہے، جبکہ انتخابی مبصرین مشتبہ اے آئی مواد کی نشاندہی کرکے الیکشن کمیشن کو فوری اطلاع دیں گے۔
سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے لیے بھی اے آئی سے تیار کردہ تصاویر، ویڈیوز اور آڈیو پر واضح لیبل لگانا لازمی قرار دینے کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ ووٹرز کو گمراہ کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کے استعمال پر پابندی اور انتخابی عمل کے دوران تیار کیے گئے تمام اے آئی مواد کو محفوظ رکھنے کی شرط شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق جعلی سوشل میڈیا ٹرینڈز چلانے کے لیے اے آئی بوٹس اور خودکار اکاؤنٹس کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کی تجویز بھی مسودے کا حصہ ہے
Lahore 30°C


