اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ اور نجی مواد کی غیر مجاز تشہیر کی روک تھام کے لیے متعلقہ قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے جامع رپورٹ طلب کرلی۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے درخواست گزار ڈاکٹر رانا احسان کی درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کیا، جس میں ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ کے غلط استعمال کی روک تھام اور شکایات کے مؤثر ازالے کے لیے قانونی اقدامات کا جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

عدالت نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) سمیت متعلقہ اداروں کو جامع رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

تحریری حکم نامے کے مطابق وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی، پیمرا، پی ٹی اے، این سی سی آئی اے اور دیگر متعلقہ وزارتوں و محکموں کا اجلاس بلایا جائے، جس میں ڈیجیٹل میڈیا کے غلط استعمال اور آن لائن جرائم کی روک تھام میں درپیش مسائل کا جائزہ لیا جائے۔

عدالت نے متعلقہ اداروں کو قانونی، انتظامی اور تکنیکی رکاوٹوں کی نشاندہی کرنے اور ان کے خاتمے کے لیے کیے گئے یا تجویز کردہ اقدامات سے آگاہ کرنے کی ہدایت بھی کی۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اجلاس کے دوران مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری کی ضرورت کا بھی تعین کیا جائے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے متعلقہ حکام کو آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ اور نجی مواد کی غیر مجاز تشہیر روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیا۔ پی ٹی اے کی جانب سے جمع کرائی گئی تحریری رپورٹ کو بھی عدالتی حکم نامے کا حصہ بنایا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر غیر قانونی مواد بلاک کرنے سے متعلق پی ٹی اے کی رپورٹ

پی ٹی اے کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مختلف نوعیت کے غیر قانونی مواد کو بلاک کرنے کی شرح میں فرق پایا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان کے دفاع اور سیکیورٹی سے متعلق مواد بلاک کرنے کی درخواستوں پر عملدرآمد کی شرح 59.1 فیصد رہی، جبکہ دہشت گردی سے متعلق مواد بلاک کرنے کی شرح 79.51 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

اسی طرح عظمتِ اسلام کے خلاف مواد بلاک کرنے کی شرح 76.54 فیصد اور شائستگی و اخلاقیات سے متعلق مواد بلاک کرنے کی شرح 98.91 فیصد رہی۔ فرقہ وارانہ اور نفرت انگیز مواد کو بلاک کرنے کی شرح 64.43 فیصد بتائی گئی۔

پی ٹی اے کی رپورٹ کے مطابق ٹوئٹر پر مواد بلاک کرنے کی شرح 48.42 فیصد، فیس بک پر 78.57 فیصد اور انسٹاگرام پر 79.52 فیصد رہی۔ یوٹیوب پر 87.34 فیصد جبکہ ٹک ٹاک پر 88.68 فیصد مواد بلاک کرایا گیا۔

سوشل میڈیا کمپنیوں کے عدم تعاون کا معاملہ

تحریری حکم نامے میں بتایا گیا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو پی ٹی اے کے ساتھ رجسٹریشن کے تقاضے پورے کرنے اور شکایات کے ازالے کے لیے مقامی سطح پر افسران مقرر کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، تاہم اس حوالے سے کوئی مثبت جواب موصول نہیں ہوا۔

پی ٹی اے کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے آپریٹرز اکثر غیر قانونی مواد ہٹانے سے متعلق درخواستیں مسترد کر دیتے ہیں، جس سے شکایات کے مؤثر ازالے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

عدالت نے اپنے حکم نامے میں انسدادِ الیکٹرانک جرائم ایکٹ کے تحت سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کا بھی حوالہ دیا، جسے غیر قانونی مواد ہٹانے یا بلاک کرنے کے وسیع اختیارات اور ذمہ داریاں تفویض کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔

عدالت نے سوال اٹھایا کہ آیا متعلقہ قوانین اور قواعد کے تحت مجاز حکام کو حاصل قانونی اختیارات مؤثر انداز میں استعمال کیے جا رہے ہیں یا نہیں۔

حکم نامے میں اس امر کا جائزہ لینے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا کہ پیمرا، پی ٹی اے اور این سی سی آئی اے کے درمیان کس حد تک رابطہ کاری موجود ہے اور آن لائن جرائم کی روک تھام کے لیے ادارے کس طرح اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت 23 نومبر کو مقرر کردی۔