اسلام آباد : ایمان مزاری اور ہادی چھٹہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔

درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر ٹرائل فوری طور پر نہ روکا گیا تو اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرِ التوا درخواست غیر مؤثر ہو جائے گی ۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے ایک ہی دن میں استغاثہ کے گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے اور مناسب وقت دیے بغیر جلد بازی میں ٹرائل کا آغاز کیا ۔

درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ سیکیورٹی بیریئرز ہٹانا دہشت گردی نہیں ہے۔ ان کے مطابق ٹرائل کا مقصد محض ہراساں کرنا اور سیاسی انتقام لینا ہے، جبکہ اصل مقصد ملزمان کو جیل میں رکھنا ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے 19 اکتوبر کو انسدادِ دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کے لیے دائر درخواستوں پر عبوری حکم جاری کرنے کی استدعا مسترد کر دی تھی۔ تاہم، ٹرائل روکنے کی درخواست پر نوٹسز جاری کیے گئے تھے۔