اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات بلدیاتی قانون 2015 کے تحت کرانے اور آج ہی انتخابی شیڈول جاری کرنے کی ہدایت کردی۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں تاخیر سے متعلق کیس کی سماعت کی، جس میں سیکرٹری داخلہ اور دیگر حکام پیش ہوئے۔
الیکشن کمیشن کے اسپیشل سیکرٹری ظفر اقبال ملک نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد میں چھ مرتبہ حلقہ بندیاں کی جاچکی ہیں، جبکہ چار مرتبہ انتخابی شیڈول بھی جاری کیا گیا۔ آخری انتخابی پروگرام 9 اکتوبر 2026 کو جاری کیا گیا تھا اور فروری 2026 میں پولنگ ہونا تھی۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق آرڈیننس جاری کیا تھا، تاہم اس کی مدت 6 ستمبر کو ختم ہوگئی۔ اب 14 اکتوبر کو حتمی حلقہ بندیاں بھی شائع ہوچکی ہیں۔
اسپیشل سیکرٹری کے مطابق وزارت داخلہ کو آرڈیننس کی مدت ختم ہونے سے متعلق آگاہ کرنے کے ساتھ دو مرتبہ یاددہانی کے مراسلے بھی بھجوائے گئے، تاہم اسلام آباد لوکل گورنمنٹ کے قواعد تاحال فراہم نہیں کیے گئے اور وزارت قانون نے قواعد کی منظوری دینے سے انکار کردیا۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ابھی تک نیا بلدیاتی قانون نہیں بنایا، اس لیے 2015 کے موجودہ قانون کے تحت انتخابات کرائے جائیں۔
سیکرٹری داخلہ نے الیکشن کمیشن کو بتایا کہ پیش کیے گئے حقائق درست ہیں، تاہم 2015 کے قانون پر عمل درآمد کی صورت میں تمام عمل دوبارہ کرنا پڑے گا۔
اس پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ 2015 کے قانون کے تحت انتخابات کرانے سے حلقہ بندیاں متاثر نہیں ہوں گی۔
چیف الیکشن کمشنر نے مزید کہا کہ وزیر داخلہ، سیکرٹری داخلہ اور چیف کمشنر سمیت وزرا کی کمیٹی کی جانب سے یقین دہانیاں کرائی گئیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکومت اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات نہیں کرانا چاہتی۔
انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق بلدیاتی انتخابات متعلقہ قانون کے تحت کرانا لازم ہیں اور اب الیکشن کمیشن مجبور ہوکر انتخابات کے انعقاد کے لیے حکم جاری کر رہا ہے۔
بعد ازاں چیف الیکشن کمشنر نے مختصر حکمنامہ پڑھ کر سنایا، جس میں اسلام آباد میں بلدیاتی قانون 2015 کے تحت انتخابات کرانے اور آج ہی انتخابی شیڈول جاری کرنے کی ہدایت کی گئی۔
Lahore 23°C


