پشاور: خیبرپختونخوا کے محکمہ تعلیم میں مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، جہاں آڈیٹر جنرل کی مالی سال 2024-25 کی رپورٹ کے مطابق 92 کروڑ روپے سے زائد کی مبینہ بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق صوبے میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں محکمہ تعلیم کے مختلف منصوبوں اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان معاملات میں اساتذہ کی بھرتیوں اور طلبہ کو ٹیبلٹس کی فراہمی سمیت دیگر امور شامل ہیں، جن میں مبینہ طور پر 37 کروڑ 43 لاکھ روپے کی بے ضابطگیاں ہوئیں۔

رپورٹ کے حوالے سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق بنوں سے ہری پور تک متعدد سرکاری اسکولوں کی عمارتیں خستہ حالی کا شکار ہیں، جبکہ اسکولوں کی مرمت اور بحالی کے لیے مختص فنڈز کے استعمال پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

اسی طرح ڈیرہ اسماعیل خان، چارسدہ اور بونیر میں متعدد کلاس رومز کے ناقابلِ استعمال ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے، جس کے باعث ہزاروں طلبہ و طالبات کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

محکمہ تعلیم میں مالی بے ضابطگیوں اور سرکاری اسکولوں کی خستہ حالی کے ان معاملات نے صوبے میں تعلیمی سہولیات، ترقیاتی فنڈز کے استعمال اور نگرانی کے نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

تاہم، مبینہ بے ضابطگیوں کی حتمی نوعیت، ذمہ داران کے تعین اور ممکنہ مالی نقصان کی تصدیق کے لیے آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کی مکمل تفصیلات اور متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے آنا ضروری ہے۔