لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی بہنوں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی بازیابی کے لیے دائر درخواست ہوم سیکرٹری کی رپورٹ کی روشنی میں نمٹا دی۔

جسٹس عبہر گل خان نے شاہ ریز کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ دورانِ سماعت پنجاب حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ تینوں خواتین کی نظر بندی میں مزید 30 روز کی توسیع کی گئی ہے، جبکہ ان کی نظر بندی میں توسیع 7 اکتوبر کو کی گئی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل رانا مدثر عمر نے عدالت سے استدعا کی کہ علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو بازیاب کرا کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔

اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ نظر بندی کا نوٹیفکیشن ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) نے جاری کیا، لیکن درخواست میں ڈی سی کو فریق نہیں بنایا گیا۔ عدالت نے مزید کہا کہ درخواست گزار کو یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ عدالت درخواست کے دائرہ کار سے باہر جا کر کوئی حکم جاری نہیں کر سکتی۔

سماعت کے دوران وکیل رانا مدثر عمر نے کہا کہ انہیں علم ہے کہ اس معاملے میں 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم آڑے آئیں گی۔

سماعت کے موقع پر عظمیٰ خان کے شوہر احد خان اور علیمہ خان کے بیٹے بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

بعد ازاں عدالت نے ہوم سیکرٹری کی رپورٹ کی روشنی میں درخواست نمٹا دی۔