ملتان: (راشد حبیب ) لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بینچ نے ایک تاریخی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) اپنی مرضی سے کسی بھی ٹیکس گزار کو آڈٹ کے لیے منتخب نہیں کر سکتا۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے سیکشن 25 کے تحت ایک سخت اور متعین قانونی طریقہ کار کی پیروی کرنا لازمی ہے۔

جسٹس جواد حسن اور جسٹس عابد حسین چٹھہ پر مشتمل ڈویژن بینچ نے یہ 17 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ سابق این اے اور جے ڈی ڈبلیو (JDW) گروپ کے بانی جہانگیر خان ترین کی کمپنی میسرز جے کے شوگر ملز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی آئینی درخواست پر جاری کیا۔ عدالت نے ایف بی آر کی جانب سے مارچ 2017 میں کمپنی کو جاری کیے گئے آڈٹ اور ریکارڈ کی طلبی کے تمام نوٹسز کو کالعدم قرار دے دیا۔


کیس کا پس منظر

یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب کمشنر ان لینڈ ریونیو نے 3 مارچ 2017 کو جے کے شوگر ملز کو مطلع کیا کہ ان کا کیس آڈٹ کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے۔ اس کے ٹھیک تین دن بعد، 6 مارچ 2017 کو ڈپٹی کمشنر نے کمپنی کو تمام کاروباری ریکارڈ، انوائسز اور بینک کھاتے پیش کرنے کا حکم دیا۔

شوگر مل کے وکیل ملک احسن محمود نے عدالت میں اصرار کیا کہ سیکشن 25 ایف بی آر کو یہ مطلق اختیار نہیں دیتا کہ وہ اپنی پسند سے کسی بھی ٹیکس گزار کو آڈٹ کے لیے چن لے۔ انہوں نے دلیل دی کہ آڈٹ کے لیے عام سلیکشن کا ایک ہی قانونی طریقہ کار ہے جو سیکشن 72B کے تحت کمپیوٹرائزڈ بیلٹنگ (قرعہ اندازی) کے ذریعے ہوتا ہے، اور جنرل دفعات کو اس شفاف نظام کو بائی پاس کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔


عدالت کا فیصلہ اور تشریح

ہائی کورٹ نے دو اہم آئینی سوالات اٹھائے کہ کیا کمشنر کے پاس ٹیکس گزاروں کو ہدف بنانے کے لامحدود اور غیر منصفانہ اختیارات موجود ہیں؟ عدالت نے ایف بی آر کے اقدامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے درج ذیل اہم نکات طے کیے:

• ترتیب کی خلاف ورزی غیر قانونی: سیکشن 25 کی ذیلی دفعات (1) اور (2) ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ ایف بی آر کو پہلے ذیلی دفعہ (1) کے تحت نوٹس دے کر ریکارڈ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ آڈٹ کا آغاز ذیلی دفعہ (2) کے تحت صرف اسی صورت ہو سکتا ہے جب ریکارڈ پہلے سے موجود ہو۔ کمشنر نے پہلے آڈٹ کا فیصلہ کیا اور ریکارڈ بعد میں مانگا، جو کہ قانون کو الٹ کر اپنے پہلے سے طے شدہ فیصلے کو جائز ثابت کرنے کی کوشش تھی۔

• صوابدیدی اختیارات کی حد: بینچ نے واضح کیا کہ قانون میں درج جملہ "جب ضرورت ہو" (as and when required) صرف وقت کے تعین میں لچک دینے کے لیے ہے، یہ کمشنر کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ کاروباری اداروں کو ہراساں کرنے کے لیے کسی بھی وقت تحقیقات شروع کر دیں۔


مستقبل کے لیے رولنگ

سپریم کورٹ آف پاکستان کے پاکستان بیوریجز لمیٹڈ (2018) جیسے اہم فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے ہائی کورٹ نے برقرار رکھا کہ کوئی بھی سرکاری ادارہ اپنے صوابدیدی اختیارات کا استعمال منصفانہ اور معقول طریقے سے کرنے کا پابند ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سیکشن 25 کے تحت کسی بھی آڈٹ کی کارروائی کے لیے تحریری طور پر ٹھوس وجوہات بتانا لازمی ہوگا کہ کمپیوٹر بیلٹ کے موجود ہوتے ہوئے اس مخصوص کیس کا آڈٹ کیوں ضروری ہے۔

عدالت نے جے کے شوگر ملز کی درخواست منظور کرتے ہوئے ٹیکس حکام کے نوٹسز کو باقاعدہ منسوخ کر دیا۔