اسلام آباد: روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا ہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان دہری شہریت کے معاملے کو حل کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور بینکاری شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے بھی اقدامات زیر غور ہیں۔

اسلام آباد میں ایک گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیصل نیاز ترمذی نے بتایا کہ روسی شہریوں کی بڑی تعداد پاکستانی شہریوں سے شادی کے بعد پاکستان میں مقیم ہے۔ بلوچستان، پنجاب اور سندھ سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں روسی شہریوں کے خاندان آباد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 252 پاکستانی طلبہ کے اسکالرشپس سے متعلق معاملے کے حل کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان، روس کے ساتھ روابط اور سہولت کاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ روس پر پابندیوں کے باوجود ایشیائی ممالک کے ساتھ اس کی تجارت جاری ہے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے روس کے سفیر نے کہا کہ روس، پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کے حل میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے پاک افغان کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔

روسی سفیر نے کہا کہ پاکستان اور روس کے دوستانہ روابط بین الحکومتی تعلقات کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق پاک افغان سرحد کی بندش سے پاکستان کے وسطی ایشیائی ممالک اور روس کے ساتھ تجارتی روابط بھی متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاک افغان سرحد جلد کھل جائے گی اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی آئے گی۔

روسی سفیر کے مطابق روسی وزیر داخلہ کے دورہ پاکستان کے دوران پاک افغان کشیدگی پر تفصیلی بات چیت ہوئی تھی۔ انہوں نے روسی وزیر داخلہ، انٹیلی جنس چیف اور سلامتی کونسل کے نائب سربراہ کے علاقائی دوروں کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔