اسلام آباد: پاکستان کی میڈیا انڈسٹری میں ورکرز کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور واجبات میں تاخیر کے حوالے سے قومی اسمبلی میں وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے جمع کروائے گئے تحریری جواب میں سنسنی خیز اور چونکا دینے والے حقائق سامنے آئے ہیں۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق، پیمرا ترمیمی ایکٹ 2023 کے نفاذ کے بعد سے اب تک کونسل آف کمپلینٹس (COC) کو میڈیا ملازمین کی جانب سے کل 437 شکایات موصول ہوئی ہیں، جن میں سے حیران کن طور پر 393 شکایات اکیلے میسرز لبیک (پرائیویٹ) لمیٹڈ یعنی 'بول نیوز' (BOL News) کے خلاف درج کرائی گئی ہیں۔
پیمرا ایکٹ کی دفعہ 20 الف اور 20 ب کا سخت نفاذ
وزیر اطلاعات کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب کے مطابق، پیمرا آرڈیننس 2002 میں کی گئی تاریخی ترمیم (ترمیمی ایکٹ 2023) کے تحت اب الیکٹرانک میڈیا کے ملازمین کو وقت پر تنخواہوں کی ادائیگی کو یقینی بنانا اتھارٹی کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل کر دیا گیا ہے۔ قانون کی دفعہ 20 الف (20-A) کے تحت کوئی بھی لائسنس یافتہ ٹی وی چینل یا ریڈیو اپنے ملازمین کی تنخواہیں دو ماہ سے زیادہ عرصے کے لیے روکنے کا مجاز نہیں ہے۔ قانون میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی ادارہ اس کی خلاف ورزی کرے گا تو کونسل آف کمپلینٹس کی سفارش پر اس کے خلاف سخت ترین تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
شکایات پر کونسل آف کمپلینٹس (COC) کا بڑا ایکشن
دستاویز کے مطابق، کونسل نے میڈیا ورکرز کے حقوق کے تحفظ کے لیے تیز رفتار کارروائی کی ہے۔ موصول ہونے والی مجموعی طور پر 437 شکایات میں سے 407 شکایات کا حتمی فیصلہ سنایا جا چکا ہے، جبکہ بقیہ 30 شکایات پر کارروائی کا عمل تیزی سے جاری ہے تاکہ ملازمین کو ان کا حق جلد از جلد دلایا جا سکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بول نیوز کے علاوہ پاکستان کے دیگر تمام سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کے خلاف مجموعی طور پر محض 44 شکایات کونسل کے سامنے آئیں۔
سرکاری اشتہارات اور کمرشل تشہیر پر پابندی کی سفارش
قانون کی دفعہ 20 ب (20-B) کے تحت کونسل آف کمپلینٹس کے فیصلوں پر عمل نہ کرنے والے نادہندہ چینلز کے خلاف شکنجہ کس دیا گیا ہے۔ دستاویز میں انکشاف کیا گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نومبر 2024 میں باقاعدہ خطوط ارسال کیے گئے ہیں جن میں درخواست کی گئی ہے کہ کونسل کے فیصلوں کی عدم تعمیل پر میسرز لبیک (پرائیویٹ) لمیٹڈ 'بول نیوز' اور میسرز کیو کمیونیکیشنز (پرائیویٹ) لمیٹڈ 'ایل ٹی این فیملی' کی ٹی وی اور ریڈیو پر ہر قسم کی کمرشل تشہیر اور سرکاری اشتہارات کی فراہمی کو فوری طور پر روک دیا جائے۔
اس دستاویزی رپورٹ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اب قانون کے مطابق جو میڈیا ہاؤس اپنے ملازمین کو تنخواہیں نہیں دے گا، حکومت اس کے سرکاری اشتہارات اور تجارتی تشہیر بند کر کے اس کا معاشی گھیراؤ کرے گی۔
Lahore 28°C


