اسلام آباد: احتجاج آئینی حق ہے، لیکن اس حق کو شہروں کو مفلوج کرنے، شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے یا قومی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ پاکستان کو ایک ایسے مستقل، منصفانہ اور قابلِ عمل قانونی نظام کی ضرورت ہے جو احتجاج کو تصادم، جانی نقصان اور عوامی مشکلات میں تبدیل ہونے سے پہلے مؤثر انداز میں منظم کر سکے۔

ملک میں بارہا دیکھا گیا ہے کہ سیاسی اور مذہبی اجتماعات کے باعث شاہراہیں بند، ٹرانسپورٹ معطل، کاروبار متاثر اور شہری آمدورفت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ان حالات میں سب سے زیادہ نقصان عام آدمی اٹھاتا ہے۔ دیہاڑی دار مزدور کی آمدن رک جاتی ہے، مریضوں کو ہسپتال پہنچنے میں دشواری ہوتی ہے، طلبہ کی تعلیم متاثر ہوتی ہے اور کاروباری طبقے کو بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس نقصان کی تلافی بھی عموماً انہی شہریوں کو خود کرنا پڑتی ہے۔

تاہم اس مسئلے کا حل پُرامن اختلافِ رائے کو دبانا نہیں، بلکہ احتجاج کے لیے واضح، یکساں اور قابلِ نفاذ ضابطۂ قانون تشکیل دینا ہے۔


موجودہ قانون کا جائزہ اور قانونی خلا کا خاتمہ

حکومت کو چاہیے کہ وہ موجودہ قانونی نظام، بالخصوص اسلام آباد کی حدود میں نافذ العمل پُرامن اجتماع و امنِ عامہ ایکٹ 2024ء، کا جائزہ لے اور آئینی دائرۂ اختیار کے مطابق وفاقی اور صوبائی سطح پر موجود قانونی خلا دور کرنے کے لیے متعلقہ حکومتوں اور قانون ساز اداروں کے ساتھ مل کر کام کرے۔ مقصد پہلے سے موجود قوانین کی غیر ضروری تکرار نہیں، بلکہ ایسا مربوط نظام وضع کرنا ہونا چاہیے جو عملی مشکلات کا مؤثر حل فراہم کرے۔

مجوزہ نظام کے تحت احتجاج سے قبل اطلاع دینا، منتظمین کی نامزدگی، مخصوص مقامات اور متعین راستوں کا تعین اور ضابطۂ اخلاق کی پابندی بنیادی شرائط ہونی چاہییں۔ پُرامن مظاہرین اور تشدد، توڑ پھوڑ، دھمکی یا دانستہ طور پر عوامی راستے مسدود کرنے والوں کے درمیان واضح فرق رکھا جائے۔ خلاف ورزی پر سزا متناسب، شواہد پر مبنی اور قانونی تقاضوں کے مطابق ہو، جبکہ اپیل اور عدالتی نظرثانی کے حقوق بھی محفوظ رہیں۔


قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے

کسی سیاسی جماعت، مذہبی تنظیم، کسان تنظیم، مزدور یونین یا دباؤ ڈالنے والے گروہ کو محض سیاسی اثرورسوخ کی بنیاد پر استثنا حاصل نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح حکومت مخالف ہونے کی بنا پر کسی تنظیم کو امتیازی کارروائی کا نشانہ بھی نہیں بنایا جا سکتا۔ اجتماعی سزا، سیاسی انتقام اور بلاجواز پابندیوں کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔

کسی سیاسی جماعت پر پابندی، نااہلی یا اس کے سیاسی حقوق پر قدغن صرف آئین اور متعلقہ قانون میں مقررہ طریقۂ کار کے تحت، مجاز اداروں کے فیصلے اور مناسب عدالتی نگرانی کے ساتھ ہی عائد کی جانی چاہیے۔ قانون کا مقصد سیاسی اختلاف ختم کرنا نہیں، بلکہ اختلاف کو پُرامن اور منظم دائرے میں رکھنا ہونا چاہیے۔


پولیس اہلکاروں کی جانیں بھی قیمتی ہیں

احتجاج کو منظم کرنے کی ذمہ داری صرف مظاہرین پر عائد نہیں ہوتی۔ طویل ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کو معیاری خوراک، صاف پانی، محفوظ رہائش، صفائی کی سہولت، طبی امداد اور مناسب وقفوں کے ساتھ ڈیوٹی کی فراہمی بھی ریاستی ذمہ داری ہے۔ خطرات کا بروقت جائزہ، ہنگامی طبی انتظامات اور اہلکاروں کو غیر ضروری خطرات سے بچانے کے لیے مؤثر منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔

پنجاب میں احتجاجی ڈیوٹی کے دوران پولیس اہلکاروں کی اموات سے متعلق میڈیا رپورٹس سنجیدہ توجہ کی متقاضی ہیں۔ اٹک اور واہ کینٹ کے گردونواح میں تعیناتی کے دوران جاں بحق ہونے والے اہلکاروں کے بارے میں مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم بعض واقعات کے حالات اور اسباب کے متعلق رپورٹوں میں یکسانیت نہیں رہی۔ اس صورتِ حال میں غیر جانب دارانہ تحقیقات اور مستند سرکاری ریکارڈ کی اشاعت ضروری ہے۔ نومبر 2024ء میں حکلہ کے مقام پر جاں بحق ہونے والے کانسٹیبل محمد مبشر بلال سمیت سابقہ واقعات کا ریکارڈ بھی الگ اور درست طور پر مرتب کیا جانا چاہیے۔

ہر جاں بحق اہلکار صرف ایک سرکاری عدد نہیں، بلکہ ایک انسان، ایک خاندان اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ہر واقعے کے اصل حالات کی تصدیق، متضاد اطلاعات کی وضاحت، کوتاہی کے شواہد ملنے پر ذمہ داروں کا تعین اور متاثرہ خاندانوں کو قانونی واجبات کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے۔ کسی بھی اہلکار کی موت کو انتظامی ابہام یا سیاسی بحث کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔


قومی مفاد میں مشاورت اور جواب دہی

ایک مؤثر قانونی فریم ورک کی تیاری کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، سیاسی جماعتوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سول سوسائٹی، ٹرانسپورٹ کے شعبے اور کاروباری نمائندوں کو مشاورت میں شامل کیا جائے۔ اس نظام میں پُرامن احتجاج کے تحفظ کے ساتھ تشدد، عوامی راستوں کی غیر قانونی بندش اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے کے خلاف واضح کارروائی کی گنجائش ہو۔ بڑے احتجاجی واقعات کے نتیجے میں ہونے والے عوامی نقصانات اور بنیادی خدمات کی بحالی پر اٹھنے والے اخراجات کی شفاف رپورٹنگ بھی لازم ہونی چاہیے۔

پاکستان نہ تو ہر احتجاج کو ایک ہنگامی صورتِ حال سمجھ کر عجلت میں فیصلے کرنے کا متحمل ہو سکتا ہے اور نہ ہی امن و امان کے نام پر اختلافِ رائے دبانے کا۔ ضرورت ایسے پیشگی طے شدہ قواعد، مؤثر حفاظتی ضمانتوں اور دوطرفہ جواب دہی کی ہے جو منتظمین اور سرکاری اہلکاروں دونوں پر یکساں طور پر لاگو ہوں۔

مقصد احتجاج کی آواز خاموش کرنا نہیں، بلکہ اس آئینی حق کا تحفظ کرتے ہوئے دوسرے شہریوں کے حقوق، روزگار، معیشت اور انسانی جانوں کو محفوظ بنانا ہے۔ پاکستان میں مستقل، غیر جانب دار اور قابلِ نفاذ قانون ہی اس توازن کی بنیاد بن سکتا ہے۔