اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کی چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمان نے انکشاف کیا ہے کہ 2022 کے سیلاب سے متاثر ہونے والے 14 ہزار اسکول اب تک دوبارہ تعمیر نہیں ہو سکے۔ انہوں نے متاثرہ تعلیمی اداروں کی بحالی میں تاخیر کا معاملہ کمیٹی کے اجلاس میں اٹھایا۔

سینیٹر شیری رحمان کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کا اجلاس ہوا، جس میں پاکستان کلائمیٹ چینج اتھارٹی کی کارکردگی، پلاسٹک کی بوتلوں اور بیگز کے استعمال، ری سائیکلنگ اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق امور پر تفصیلی بحث کی گئی۔

اجلاس میں وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے بتایا کہ پاکستان کلائمیٹ چینج اتھارٹی اب تک مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ ترامیم کے بعد اتھارٹی وزارت موسمیاتی تبدیلی کے تھنک ٹینک کے طور پر کام کرے گی اور مختلف سطحوں پر وزارت کو رپورٹ کرے گی۔

پاکستان کلائمیٹ چینج اتھارٹی کے چیئرمین نے کمیٹی کو جاری منصوبوں اور کارکردگی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبوں کے ساتھ رابطہ کاری اور بہتر تجاویز کے حصول کے لیے مختلف گروپس تشکیل دیے گئے ہیں۔

تاہم شیری رحمان نے بریفنگ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پیش کی گئی بریفنگ سمجھ نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ جب حکام پریزنٹیشن کے لیے تیار نہ ہوں تو انہیں اجلاس میں نہیں آنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اتھارٹی اب تک اپنی کارکردگی منوانے میں کامیاب نہیں ہوئی اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ادارے میں ماہرین کی کمی ہے۔

اس موقع پر سیکرٹری وزارت موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ اتھارٹی کے چیئرمین کو عہدہ سنبھالے زیادہ وقت نہیں ہوا، اس لیے انہیں کچھ وقت دیا جانا چاہیے۔

اجلاس کے دوران پلاسٹک بیگز اور پی ای ٹی بوتلوں کے استعمال، ری سائیکلنگ اور متبادل پیکجنگ کے معاملات بھی زیر بحث آئے۔ شیری رحمان نے کہا کہ عالمی سطح پر ری سائیکلنگ میں پاکستان کا حصہ صرف ایک فیصد ہے اور پلاسٹک کے فضلے کو ٹھکانے لگانے اور ری سائیکل کرنے کے نظام پر سنجیدہ سوالات موجود ہیں۔

وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ پلاسٹک بیگز کی بندش پر قانون کے مطابق عمل درآمد کرایا گیا ہے اور متبادل بیگز کا انتظام بھی موجود ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کا مقصد کسی کاروبار کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ قانون پر عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔

مصدق ملک نے کہا کہ پلاسٹک کے استعمال میں کمی کے لیے متبادل مصنوعات کی دستیابی، ان کے مارکیٹ میں آنے کے وقت اور قابلِ عمل پالیسی جیسے اہم سوالات پر غور کرنا ہوگا۔

شیری رحمان نے زور دیا کہ حکومت، متعلقہ اداروں اور کاروباری شعبے کے نمائندوں کو اعتماد میں لے کر ایسا نظام بنایا جائے جو ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ کاروباری سرگرمیوں کو بھی متاثر نہ کرے۔