پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے 4 اکتوبر کو لانگ مارچ ہر صورت کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مرتبہ عوام کی ایسی بڑی تعداد باہر نکلے گی جس کا اندازہ کسی کو نہیں، صرف انہیں اور اسٹیبلشمنٹ کو معلوم ہے کہ کتنے لوگ شریک ہوں گے۔


اپنے بیان میں سہیل آفریدی نے کہا کہ 4 اکتوبر کو ہونے والے لانگ مارچ میں 27 ستمبر سے بھی زیادہ لوگ شرکت کریں گے۔ خیبرپختونخوا کے عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے اور کارکنان اس مرتبہ پہلے سے زیادہ تیار اور ہوشیار ہیں۔


انہوں نے وفاقی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے میں ناکام رہی ہے۔ ان کے بقول حکومت کو اقتدار میں لانے والے بھی یہ سمجھ چکے ہیں کہ ان سے بڑی غلطی ہوئی ہے کہ ایسی حکومت قوم پر مسلط کی گئی۔


سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم کسی صورت اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہمارا سفر صوابی سے شروع ہوگا اور اس کے بعد ان شاء اللہ اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کریں گے۔


انہوں نے واضح کیا کہ علی امین گنڈاپور کے حوصلے بلند ہیں اور وہ خود علی امین گنڈاپور کے ساتھ مل کر مارچ کی قیادت کریں گے۔


حکومت پر انتشار پھیلانے کا الزام


سہیل آفریدی نے مسلم لیگ (ن) پر پاکستان میں انتشار پھیلانے کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت توڑنے والی نہیں بلکہ لوگوں کو جوڑنے والی ہے۔


انہوں نے کہا کہ ممکن ہے قیادت کے ساتھ بیک ڈور رابطے ہو رہے ہوں، تاہم ہمارا مقصد واضح ہے اور ہم اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔


قرضوں سے متعلق اہم دعویٰ


ملکی قرضوں کے حوالے سے سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کا اندرونی اور بیرونی قرضہ پہلے 43 ہزار ارب روپے تھا، جو ان کے بیان کے مطابق گزشتہ پانچ سال میں بڑھ کر 99.5 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے۔


شوکت یوسفزئی کے خط پر ردعمل


شوکت یوسفزئی کے خط سے متعلق سوال پر سہیل آفریدی نے کہا کہ انہوں نے ابھی یہ خط نہیں دیکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں یہ خط ملا تو وہ اسے پھاڑ دیں گے۔


سہیل آفریدی نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ 4 اکتوبر کا لانگ مارچ ہر صورت ہوگا اور اس مرتبہ عوامی شرکت 27 ستمبر کے مقابلے میں زیادہ ہوگی۔