خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 4 اکتوبر کو گنڈی چوک، لکی مروت سے عوام کا احتجاجی سفر شروع ہوگا، جو آئین و قانون کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کی بحالی تک جاری رکھنے کا عزم کیا گیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں سہیل آفریدی نے کہا کہ تحریک انصاف کے تمام مطالبات آئین اور قانون کے مطابق ہیں اور پاکستان کے آئین کے تحت عوام کو پُرامن احتجاج کا حق حاصل ہے۔
سہیل آفریدی نے ملک میں دہشت گردی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی خیبر پختونخوا اور پاکستان کے عوام کے لیے محض ’’بیانیے کی جنگ‘‘ نہیں بلکہ ایک حقیقی مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ہمیشہ فوجی آپریشنز اور شہریوں کی بے دخلی کو مسئلے کا مستقل حل قرار دینے سے اختلاف کیا ہے۔
انہوں نے ڈرون حملوں اور ’’کولیٹرل ڈیمج‘‘ سے متعلق بھی اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے دہشت گردی میں اضافے کا خدشہ ہے۔
سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا میں امن کے قیام کے لیے حکومتی پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اگر پالیسی تبدیل کی جائے تو 100 دن کے اندر صوبے میں امن قائم کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے صوبے میں پولیس سے متعلق بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ پولیس کے لیے خریدا گیا اسلحہ اسے فراہم نہ کیے جانے اور بعض وزرا و کارکنوں کی گرفتاریوں سے متعلق معاملات کی وضاحت ہونی چاہیے۔
اپنے بیان میں سہیل آفریدی نے وفاقی اور بلوچستان حکومتوں کی انسدادِ دہشت گردی پالیسیوں پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اگر دونوں حکومتیں ایک ہی پالیسی پر عمل پیرا ہیں تو بلوچستان میں بھی امن کیوں قائم نہیں ہو رہا۔
انہوں نے 9 مئی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ ایسے واقعات دوبارہ نہیں ہونے دیے جائیں گے۔ ان کا الزام تھا کہ جن لوگوں نے سی سی ٹی وی فوٹیجز چوری کیں، انہی کی وجہ سے 9 مئی کے واقعات پیش آئے۔
سہیل آفریدی نے اپنے بیان کے اختتام پر اعلان کیا کہ 4 اکتوبر کو دن ایک بجے گنڈی چوک، لکی مروت سے احتجاجی سرگرمی کا آغاز کیا جائے گا اور عوام سے اس میں شرکت کی اپیل کی۔
Lahore 25°C


