اسلام آباد: معروف پمز اسپتال میں مبینہ طور پر جعلی میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹس تیار کرنے کا انکشاف ہوا ہے، جس پر ایک لیڈی ڈاکٹر سمیت عملے کے تین ارکان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ تفصیلات وزارت داخلہ کی جانب سے قومی اسمبلی میں پوچھے گئے ایک سوال کے تحریری جواب میں سامنے آئی ہیں۔
وزارت داخلہ کے مطابق جعلی میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹس تیار کرنے کی اطلاع پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے چھاپہ مارا، جس کے دوران ملزم محمد عثمان سے 50 ہزار روپے کی نشان زدہ رقم بھی برآمد کی گئی۔ مقدمے میں مردہ خانے کے ایک معاون کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
تحریری جواب میں بتایا گیا کہ ملزمان مبینہ طور پر باہمی ملی بھگت سے جعلی میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹس تیار کرتے اور زخموں کے جعلی نشانات بنا کر انہیں حقیقی ظاہر کرتے تھے۔ ملزمان کے موبائل فونز سے واٹس ایپ چیٹس، وائس نوٹس اور بینک رسیدوں کی صورت میں شواہد بھی ملے ہیں۔
وزارت داخلہ کے مطابق خدشہ ہے کہ ان جعلی سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر مختلف تھانوں میں مقدمات بھی درج کروائے جاتے رہے ہوں۔
جواب میں مزید بتایا گیا کہ ایف آئی اے نے کارروائی کے لیے اپنے ایک اہلکار کو زخمی ظاہر کرکے پیش کیا، جس کے زخموں کو حقیقی ظاہر کرنے کے لیے مبینہ طور پر ڈھائی لاکھ روپے میں معاملہ طے کیا گیا۔ وزارت داخلہ کے مطابق واٹس ایپ چیٹس، وائس نوٹس اور بینک رسیدیں بھی اس مبینہ جرم کی تصدیق کرتی ہیں۔
Lahore 28°C


