اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کا معاملہ سیمینارز یا دیگر فورمز پر بحث کرنے کے بجائے پارلیمنٹ میں زیرِ بحث آنا چاہیے، کیونکہ نئے صوبے بننے یا نہ بننے کا حتمی فیصلہ پارلیمنٹ ہی کرے گی۔
ایک بیان میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ نئے صوبوں کے حوالے سے مسلم لیگ ن میں مشاورت جاری ہے۔ جب یہ معاملہ پارلیمنٹ میں آئے گا تو مسلم لیگ ن بھی بھرپور حصہ لے گی اور اس حوالے سے اپنی پالیسی واضح کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں اور صوبائی قیادت کو مل کر اس معاملے پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی نے نئے صوبوں کے معاملے پر جلد ردِعمل دیا، جس کا اسے سیاسی فائدہ بھی حاصل ہوا۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اگر نئے صوبوں کے حوالے سے ریفرنڈم کرانے کی تجویز سامنے آتی ہے تو اس کی منظوری بھی پارلیمنٹ ہی سے لینا ہوگی۔
پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے حوالے سے رانا ثنا اللہ نے الزام عائد کیا کہ یہ احتجاج پُرامن نہیں ہوگا اور اس کا مقصد اسلام آباد آکر انتشار پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ رپورٹس کے مطابق احتجاج میں مسلح افراد بھی شامل ہو سکتے ہیں، جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی میں ملوث عناصر بھی اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
جماعتِ اسلامی کے احتجاجی پروگرامز سے متعلق رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جماعتِ اسلامی ایک سیاسی جماعت ہے اور اس کی ریلیاں، دھرنے اور لانگ مارچ عموماً آئینی و قانونی تقاضوں کے مطابق ہوتے ہیں۔
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ ایسی خبریں یا گفتگو نشر کرنے سے گریز کیا جائے جس سے عام آدمی میں بے چینی پیدا ہو اور وہ احتجاج یا فساد کی طرف مائل ہو۔
Lahore 35°C
Karachi 32°C


