بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے عدالتی حکم کے بعد انہیں شفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز ہسپتال لے جایا گیا اور طبی معائنے کے بعد واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ اس پورے معاملے نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے کہ آخر ہسپتال منتقلی کے فیصلے میں تبدیلی کے پیچھے اصل عوامل کیا تھے۔


مرشد کی ہسپتال منتقلی کو ویٹو کرنے کے پیچھے مؤدب چاچو تو ہو نہیں سکتے، شبہ کیا جا سکتا ہے کہ میثاقِ جمہوریت کرنے والوں نے چیلنج کیا ہے۔ چاچو بہت اچھے بھائی ہیں، صدر اسحاق خان کے خلاف تقریر سے لے کر مرشد کی شفا کی بجائے پمز ہسپتال طبی معائنہ تک چاچو نے بڑے بھائی سے کبھی بغاوت نہیں کی۔


صدر آصف علی زرداری نے اپنی زندگی کے تیرہ سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزار دیے لیکن محترمہ بے نظیر بھٹو سے بے وفائی نہیں کی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے پاس ڈیل کا موقع تھا لیکن انہوں نے پھانسی کا پھندا پہن لیا، ڈیل نہیں کی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کو معلوم تھا کہ انہیں قتل کیا جا سکتا ہے۔ کارساز کراچی میں ان پر حملے کی کوشش بھی ہوئی، لیکن بی بی نے ڈیل کرنے یا بیرونِ ملک جانے کے بجائے ملک میں رہ کر سیاسی جدوجہد جاری رکھی اور بالآخر اپنی جان قربان کر دی۔


ریاست کی ملکیت اور اختیار کے لیے کشمکش ہمیشہ ہوتی رہی ہے۔ نواز شریف نے جب بے نظیر بھٹو کے ساتھ مل کر 58-B ٹو ختم کرنے کی کوشش کی تو یہ ریاستی معاملات پر عوامی اختیار کی جانب ایک قدم تھا۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے جب میثاقِ جمہوریت پر دستخط کیے تو یہ ریاستی معاملات میں پارلیمنٹ کے کردار اور اختیار کو مضبوط بنانے کی کوشش تھی۔


نواز شریف نے جب سزا کاٹنے کے لیے وطن واپسی کا فیصلہ کیا اور پاکستان پہنچتے ہی گرفتاری کا سامنا کیا تو یہ بھی ایک طرح کا سیاسی چیلنج تھا۔ بعد ازاں آصف علی زرداری نے نواز شریف کے ساتھ مل کر اٹھارویں آئینی ترمیم منظور کروائی تو اسے بھی پارلیمنٹ کے اختیار کو مضبوط بنانے کی کوشش قرار دیا گیا۔


مرشد کو ہسپتال بھیجنے سے پہلے ایک ماحول بنا تھا یا بنایا گیا تھا کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کے لیے آئینی ترامیم کی جائیں گی۔ یہ ترامیم اسی وقت ممکن ہوں گی جب ہائبرڈ نظام کے سول فریقین اس پر رضامند ہوں گے۔ یہ ترامیم اس وقت بھی ممکن ہیں جب مسلم لیگ ن اور مرشد مل کر انہیں منظور کروائیں۔


پیپلز پارٹی نئے صوبوں کے معاملے پر کبھی راضی نہیں ہوگی۔ پیپلز پارٹی اٹھارویں آئینی ترمیم کی روح کے خلاف کسی قانون سازی کا حصہ نہیں بنے گی۔ اس صورتحال میں پیچھے مرشد اور چاچو بچتے ہیں کہ ریاستی طاقت کے ساتھ مل کر نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس سے متعلق قانون سازی کروائی جائے۔


مرشد کو جس طرح شفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز میں پیش کرکے طبی معائنہ کرایا گیا اور پھر واپس اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا، اس سے بظاہر یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ آصف زرداری اور نواز شریف ایک ہی جگہ پر کھڑے ہیں۔


آپشن موجود نہیں۔ صرف مرشد قابلِ اعتماد ہے، لیکن اس سے کام لینے کے لیے بھی پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ ن میں سے کسی ایک کی ضرورت ہے۔


صورتحال میں صرف دو امکانات نظر آتے ہیں۔ پہلا یہ کہ ہائبرڈ حکومت آئینی ترامیم پر رضامند ہوگئی ہے، اس لیے مرشد کی ضرورت ختم ہوگئی اور انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے ریاستی قوتوں کو چیلنج کرتے ہوئے حکومتی اختیار استعمال کیا اور مرشد کے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کو ویٹو کردیا۔


تیسری کوئی چیز موجود نہیں۔


مرشد کی پٹیشن جس طرح سماعت کے لیے منظور ہوئی، سماعت کے لیے جن ججوں پر مشتمل بینچ تشکیل دیا گیا اور سماعت کے بعد اعلیٰ ترین عدالت کے آزاد ججوں نے جو فیصلہ دیا، اس کے بعد اس فیصلے پر عمل درآمد اور پھر پیدا ہونے والی صورتحال نے کئی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔


اب اصل سوال یہ ہے کہ عمران خان کی دوبارہ اڈیالہ جیل واپسی صرف ایک انتظامی فیصلہ ہے یا اس کے پیچھے آنے والے دنوں کی کسی بڑی سیاسی اور آئینی حکمتِ عملی کے آثار موجود ہیں۔ اس کا جواب شاید آنے والے سیاسی فیصلوں اور آئینی ترامیم کی سمت واضح ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔