پاکستان میں لگنے والے چار مارشل لاء اور ان کے ملک پر اثرات

مجیب الرحمن کے چھ نکات کس طرح منظر عام پر آئے ۔۔۔

امریکہ اور روس نے پاکستان اور بھارت کے درمیان قیام امن میں گہری دلچسپی کا مظاہرہ کیا روزی وزیراعظم کوسی جن نے صدر ایوب خان اور بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری کو تاشقند میں امن مذاکرات کی دعوت دی جس کے نتیجے میں 10 جنوری 1966 کو معاہدہ تاشقند وجود میں آیا ۔

تاشنقند میں ہونے والے اس معاہدے کے تحت بھارت اور پاکستان نے اپنی اپنی افواج کو ان تمام علاقوں سے واپس بلا لیا جن پر جنگ کے دوران انہوں نے قبضہ کر لیا تھا تاہم ملک میں اس معاہدے کو مقبولیت حاصل نہ ہو سکی یہاں تک کہ اس وقت کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے بھی اس معاہدے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے آٹھ جولائی 1966 کو کابینہ سے استعفی دے دیا ۔ معاہدہ تاشقند کی بنا پر اپوزیشن کو بھی حکومت کی مذمت کا ایک اور موقع مل گیا چنانچہ پانچ فروری 1965 کو لاہور میں نواب زدہ نصراللہ خان نے تمام اپوزیشن پارٹیوں کا اجلاس طلب کیا اسی اجلاس میں شیخ مجیب الرحمن نے پہلی مرتبہ اپنے چھ نکات پیش کیے اور مشرقی پاکستان کے لیے مکمل علاقائی خود مختاری کا مطالبہ کر دیا اس مطالبے کے باعث اپوزیشن پارٹیوں میں اختلاف پیدا ہو گیا اور بحالی جمہوریت کے لیے حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا منصوبہ پس پشت ڈال دیا گیا 

متعدد اپوزیشن لیڈروں کو جن میں شیخ مجیب الرحمن بھی شامل تھے ایمرجنسی کے تحت گرفتار کر لیا گیا یہ چھ نکات کیسے وجود میں آئے ان کا خالق کون تھا اس بارے میں متضاد آرا پائی جاتی ہیں اکثر لوگوں کا خیال تھا کہ شیخ مجیب الرحمن ہرگز اس ذہانت کے مالک نہیں تھے جو ان نکات کی تشکیل کے لیے ضروری تھی جبکہ نور الامین کا خیال تھا کہ ان کے پیچھے کسی غیر ملکی طاقت کا ہاتھ تھا چند دیگر حضرات کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان نکات کو مشرقی پاکستان کے سی ایس پی افسران کےایک گروپ نے کسی بینکر کے ساتھ مل کر ترتیب دیا تاہم ایک گواہ رفیق الحسین نے مبینہ طور پر الطاف گوہر کو چھ نکات کا خالق قرار دیتے ہوئے یہ انکشاف کیا کہ انہیں ایک بینکار کے توسط سے شیخ مجیب الرحمان کو بھیجا گیا تھا الطاف حسین کے مطابق یہ سب کچھ ایوب خان کی رضامندی سے کیا گیا تھا کیونکہ وہ شیخ مجیب الرحمن کو اپنا اعلی کار بنا کر اس آل پارٹیز کانفرنس کو ناکام بنانا چاہتے تھے جو نواب زادہ نصر اللہ خان نے لاہور میں طلب کی تھی تاہم الطاف گوہر کے مطابق اس میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں تھا رفیق الحسین کو اس بات کا علم کانفرنس شروع ہونے سے ذرا پہلے اس وقت ہوا جب شیخ مجید الرحمن نے ان نکات کی ایک نقل اتفاق اخبار کے ایڈیٹر مانک میاں کے حوالے کی جو خود بھی عوامی لیگ کے ممبر تھے بہرحال حقیقت چاہے کچھ بھی ہو واقعہ یہ ہے کہ یہ چھ نکات اسی کانفرنس کے انعقاد سے پہلے سامنے ائے تھے ۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ نئے ائین کے نفاذ کے ساتھ ہی صوبوں کے گورنر بھی تبدیل کر دیے گئے تھے نواب آف کالا باغ کو مغربی پاکستان کا گورنر مقرر کیا گیا جبکہ عبدالمنعم خان کو مشرقی پاکستان کا گورنر مقرر کیا گیا تھا نواب کالا باغ جمہوریت کے سخت مخالف تھے جبکہ خان کو مشرقی پاکستان میں قطعا کوئی مقبولیت نہیں تھی تاہم ان دونوں نے اس بے رحمی کے ساتھ اپنے اختیارات کا استعمال کیا کہ ایوب حکومت کی ساکھ مجروح ہوگئی انہوں نے سیاسی لیڈروں کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی اخبارات بند کر دیے حتی کہ پریس تک ضبط کر لیے گئے ان اقدامات سے روز افضوں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ختم کرنے میں یقینا کوئی مدد نہیں مل سکتی تھی دوسرا عنصر جس نے اس مرحلے میں بے اطمینانی اور کشیدگی میں اضافہ کیا وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے بیٹوں کا کردار تھا جو نہ صرف روزمرہ ملکی امور اور معاملات میں غیر ضروری مداخلت کرنے لگے تھے بلکہ ناجائز ذاتی مفادات کی تکمیل کے لیے اپنی حیثیت کا بھی استعمال کرنے لگے تھے ان میں سے ایک تو قومی اسمبلی کارکن بننے کے بعد اپنے باپ کی سرپرستی میں ایک بڑا صنعت کار بننے میں کامیاب بھی ہو گیا تھا جاری ہے ۔