اسلام آباد: پاکستان کی معیشت سے متعلق پہلی سہ ماہی کا اسکورکارڈ جاری کر دیا گیا ہے، جس میں زرمبادلہ ذخائر، برآمدات، ترسیلات زر، ٹیکس وصولیوں اور ڈیجیٹل ادائیگیوں سمیت مختلف شعبوں میں پیش رفت رپورٹ کی گئی ہے۔

اسکورکارڈ کے مطابق اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 21.5 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے، جو سالانہ بنیاد پر 52 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ مجموعی برآمدات 11.2 ارب ڈالر جبکہ ترسیلات زر 10.9 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 72 کروڑ ڈالر رہی، جبکہ پہلی سہ ماہی میں مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری کا خالص بہاؤ 3.65 ارب ڈالر بتایا گیا ہے۔

اسکورکارڈ کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پہلی سہ ماہی کے دوران 3.1 ٹریلین روپے کی ٹیکس وصولیاں کیں اور مقررہ ہدف عبور کیا۔ آئی ٹی برآمدات میں 18 فیصد اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 1.25 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ فری لانسرز کی آمدن 46 فیصد اضافے کے ساتھ 55 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی۔

روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں مجموعی آمد 14.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ اکاؤنٹس کی تعداد 9 لاکھ 75 ہزار سے تجاوز کر گئی۔ خدمات کی برآمدات بھی 23 فیصد اضافے کے بعد 2.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔

اسکورکارڈ کے مطابق پاکستان کی تینوں بڑی عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کی درجہ بندی بی کیٹیگری میں ہے اور آؤٹ لک مستحکم بتایا گیا ہے۔ موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ Caa1 سے بڑھا کر B3، جبکہ ایس اینڈ پی نے B- سے B کر دی۔ فچ نے پاکستان کی B- ریٹنگ برقرار رکھی۔

دوسری جانب پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر 11.5 فیصد پر آ گیا۔ اسکورکارڈ میں بتایا گیا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ طے پا چکا ہے، جس کے بعد بورڈ کی منظوری سے پاکستان کو مزید 1.2 ارب ڈالر ملنے کی توقع ہے۔

اسکورکارڈ کے مطابق نجی شعبے کو فراہم کیے گئے قرضوں میں 16.6 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 11.28 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے۔ اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی تعداد 6 لاکھ 56 ہزار سے تجاوز کر گئی، جو 55 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

نجکاری کے حوالے سے اسکورکارڈ میں پی آئی اے اور فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری مکمل ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کے لیے 29 سرمایہ کاروں کو پری کوالیفائی کیے جانے کی اطلاع دی گئی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 1.85 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گاڑیوں کی فروخت 28 فیصد بڑھ گئی۔

اسکورکارڈ کے مطابق ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لین دین کی تعداد 13.2 ارب تک پہنچ گئی، جبکہ 92 فیصد ادائیگیاں ڈیجیٹل ذرائع سے کی گئیں۔