اسلام آباد: ملک میں مہنگائی کی رفتار میں کمی نہ آسکی، روزمرہ استعمال کی متعدد اشیاء گزشتہ ہفتے بھی عوام کی پہنچ سے مزید دور ہوگئیں۔ ادارہ شماریات کی تازہ رپورٹ کے مطابق ہفتہ وار مہنگائی میں 0.21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سالانہ شرح بڑھ کر 11.53 فیصد ہوگئی۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے 20 بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 10 اشیاء سستی ہوئیں جبکہ 21 ضروری اشیاء کے نرخوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
چکن کی قیمت میں 7 فیصد سے زائد اضافہ
ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے چکن کی قیمت میں سب سے نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی شرح 7.25 فیصد رہی۔
دیگر مہنگی ہونے والی اشیاء میں دال چنا 1.30 فیصد، لہسن 1.85 فیصد، پیاز 0.39 فیصد اور انڈے 0.72 فیصد مہنگے ہوئے۔
اسی عرصے میں ایل پی جی کے نرخوں میں 1.17 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ واشنگ سوپ 0.33 فیصد، ایری چاول 0.55 فیصد اور آٹا 0.29 فیصد مہنگا ہوگیا۔
پٹرول اور ڈیزل سمیت 10 اشیاء سستی
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے بعض اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھنے میں آئی۔
ڈیزل کی قیمت میں 3.43 فیصد جبکہ پٹرول کے نرخوں میں 0.65 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
اسی طرح چینی 1.05 فیصد، آلو 0.96 فیصد، ٹماٹر 0.51 فیصد، دال مونگ 0.63 فیصد اور دال مسور 0.42 فیصد سستی ہوئی۔
پاوڈر دودھ اور گڑ کی قیمتوں میں بھی معمولی کمی سامنے آئی۔
زیادہ آمدنی والے طبقے پر مہنگائی کا سالانہ بوجھ زیادہ
ادارہ شماریات کے مطابق آمدنی کے مختلف گروپس میں مہنگائی کی سالانہ شرح بھی مختلف رہی۔
17 ہزار 732 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے افراد کے لیے مہنگائی کی شرح 9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
17 ہزار 733 سے 22 ہزار 888 روپے ماہانہ آمدنی والے طبقے میں یہ شرح 10.76 فیصد رہی، جبکہ 22 ہزار 889 سے 29 ہزار 517 روپے آمدنی رکھنے والے افراد کے لیے سالانہ مہنگائی 9.40 فیصد ریکارڈ ہوئی۔
اسی طرح 29 ہزار 518 سے 44 ہزار 175 روپے ماہانہ آمدنی والے طبقے میں مہنگائی کی شرح 9.81 فیصد رہی۔
اعداد و شمار کے مطابق 44 ہزار 176 روپے سے زائد ماہانہ آمدنی رکھنے والے طبقے میں سالانہ مہنگائی کی شرح 11.99 فیصد تک پہنچ گئی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہفتہ وار مہنگائی میں اضافے کے باعث عام استعمال کی متعدد اشیاء کی قیمتوں میں دباؤ برقرار ہے۔
Lahore 25°C


