اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے وفد نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی، جس میں ملکی سیاسی صورتحال، اپوزیشن جماعتوں کے درمیان تعاون، نئے صوبوں اور آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد سمیت مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں پارلیمنٹ کے اندر اہم قومی معاملات پر مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی کوشش کریں گی۔ قومی نوعیت کے مسائل پر دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں سمیت اہم معاملات پر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی تجویز پر مشاورت ہوئی ہے اور مستقبل میں متحدہ اپوزیشن کے پلیٹ فارم سے مشترکہ سیاسی لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا انصاف مارچ مکمل طور پر پرامن ہوگا اور اس کا مقصد کسی قسم کا انتشار یا توڑ پھوڑ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام جمہوری انداز میں مارچ کا حصہ بنیں اور احتجاج کے دوران کسی قسم کا تشدد نہ ہو۔
انہوں نے بتایا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو انصاف مارچ میں شرکت کی دعوت دی جا رہی ہے۔ انتخابات، بانی پی ٹی آئی کی رہائی و علاج اور سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات سمیت مختلف معاملات پر دیگر جماعتوں کو ساتھ چلنے کی دعوت دی گئی ہے۔
پی ٹی آئی رہنما کے مطابق انصاف مارچ ملتوی کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ محمود خان اچکزئی اور دیگر رہنما مارچ میں شرکت کے حوالے سے اپنے فیصلے کریں گے۔
حکومت سے مذاکرات کے حوالے سے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اس وقت حکومت کے ساتھ براہ راست یا بیک ڈور مذاکرات نہیں ہو رہے، تاہم سیاسی مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا گیا لیکن پیش رفت نہ ہونے کے باعث معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا۔
بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایات کے بغیر پارٹی کوئی اہم قدم نہیں اٹھاتی اور تمام فیصلے باہمی مشاورت سے کیے جاتے ہیں۔
دوسری جانب عبدالغفور حیدری نے کہا کہ ملاقات میں مختلف سیاسی معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔ آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد اور نئے صوبوں کے معاملے پر بھی مشاورت کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال بھی اہم مسئلہ ہے، جس سمیت دیگر قومی معاملات اے پی سی میں زیر بحث لائے جائیں گے۔ سیاسی جماعتیں مل کر ان مسائل کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی تشکیل دے سکتی ہیں۔
Lahore 34°C
Karachi 30°C


