مشرق وسطیٰ ایک مرتبہ پھر سفارتی سرگرمیوں کے مرکز میں ہے۔ مختلف اطلاعات اور تجزیوں کے مطابق امریکہ نے ایران کے خلاف ایک ممکنہ بڑے فوجی حملے کا ارادہ مؤخر کر دیا ہے، تاہم اس پیش رفت کو ایران کی جانب سے فوری معاہدے اور بعض اہم شرائط سے مشروط قرار دیا جا رہا ہے۔ ان شرائط میں آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحری آمدورفت کے لیے کھولنا اور ایران کے متنازع جوہری پروگرام سے دستبرداری جیسے نکات شامل ہونے کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔
اگر ایسا کوئی معاہدہ وجود میں آتا ہے تو اس کا موازنہ ماضی کے اسلام آباد اکارڈ سے کیا جا رہا ہے، جو دستخط ہونے کے باوجود اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکا تھا۔ اس معاہدے کی ناکامی نے یہ سوال پیدا کیا تھا کہ آیا ایرانی حکومت اور پاسداران انقلاب ایک ہی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں یا دونوں کے درمیان پالیسی اور فیصلہ سازی میں نمایاں فرق موجود ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ماضی میں بعض مواقع پر ایران کی سیاسی حکومت اور پاسداران انقلاب کے بیانات اور عملی اقدامات میں واضح فرق دیکھا گیا، جس کے باعث کئی سفارتی کوششیں مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر مستقبل میں کوئی نیا معاہدہ طے پاتا بھی ہے تو اس کی کامیابی کا انحصار صرف دستخطوں پر نہیں بلکہ اس پر عمل درآمد، داخلی ہم آہنگی اور بین الاقوامی اعتماد پر بھی ہوگا۔
فی الحال کسی حتمی معاہدے کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ دنیا بھر کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ کوششیں مستقل امن کی بنیاد رکھ سکیں گی یا ماضی کی طرح ایک اور معاہدہ عملی مشکلات کا شکار ہو جائے گا۔ سب کی خواہش یہی ہے کہ جنگ کی فضا ختم ہو، خطہ استحکام کی طرف بڑھے اور دنیا امن، ترقی اور باہمی تعاون کے نئے دور میں داخل ہو۔
Lahore 38°C
Karachi 31°C
Islamabad 35°C

