کنوینشن مسلم لیگ کی پیدائش اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اثار کی رونمائی
8 جون 1962 کو نیا ائین نافذ کر دیا گیا ۔ لیکن جیسے ہی اس پر عمل درامد شروع ہوا، سابق وزیراعظم حسین شہید سروردی کی قیادت میں ایک ملک گیر مہم کا اغاز ہو گیا اس تحریک کو ایک ایسے اقدام سے تعبیر کیا گیا جس کا بنیادی مقصد صدر ایوب کے اقتدار کو دوام بخشنا تھا اسی تحریک کے دوران مقننہ کے براہ راست انتخاب کے نظام اور بنیادی حقوق کی بحالی کے مطالبات نے زور پڑنا شروع کر دیا۔
پہلے تو اس مخالفت کو سختی سے کچل دیا گیا اور حسین شہید سہر وردی کو گرفتار کر لیا گیا جس پر شدید عوامی رد عمل ہوا خاص طور پر مشرقی پاکستان کی طلبہ برادری میں یہ رد عمل زیادہ شدت سے دیکھا گیا جنہوں نے تعلیمی اصلاحات جون 1973 میں نئے یونیورسٹی ارڈیننس کے نفاذ کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کردی ۔
قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں سے اور طلبہ کے تصادم میں گولی چلنے کے واقعات بھی ہوئے جس کے نتیجے میں صورتحال مزید سنگین ہو گئی اور یہ تحریک مغربی پاکستان تک پھیل گئی ۔ 17 ستمبر 1962 کو مشرقی پاکستان میں طلبہ میں تعلیمی کمیشن کی اصلاحات اور تین سالہ ڈگری کورس کے خلاف عام ہڑتال کا اعلان کر دیا گیا ۔ اس اعلان پر مغربی پاکستان میں بھی عمل ہوا نتیجتا" طلبہ کی بے چینی نے انتہائی سنگین اور خطرناک صورت اختیار کر لی اخر کار حکومت کو ان کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے تین سالہ ڈگری کورس کی تجویز واپس لینا پڑی آئین کا نفاذ ہوتے ہی جلد یہ محسوس کیا جانے لگا کہ آئینی مشینری خواہ اس کی شکل و صورت کچھ بھی ہو سیاسی جماعتوں کے بغیر کام نہیں کر سکے گی چنانچہ 14 جولائی 1962 کو پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ منظور کیا گیا جس کی رو سے سیاسی جماعتوں کو کام کرنے کی اجازت دی گئی تاہم اب بھی ان پر متعدد پابندیاں برقرار تھیں ۔ مگر ان پابندیوں کے باوجود سیاسی جماعتیں منظر عام پر آنا شروع ہو گئیں بالخصوص اس وقت جب ایوب خان نے خود اپنی سیاسی جماعت کنونشن مسلم لیگ بنانے کا فیصلہ کیا سیاسی جماعتوں کے ظہور کے ساتھ ہی آئین کے خلاف سیاسی ایجیٹیشن میں بھی شدت پیدا ہونے لگی جس کے نتیجے میں بالاخر حکومت نے 1963 میں بنیادی حقوق اور صدارتی انتخابات کے نتائج کا اعلان کیا تو لوگوں کو یہ جان کر انتہائی تعجب ہوا کہ فیلڈ مارشل ایوب خان 21 ہزار دو سو اکسٹھ ووٹوں کی اکثریت سے کامیاب قرار دیے گئے تھے حالانکہ محترمہ فاطمہ جناح کو شہری علاقوں کی بھرپور تائید اور حمایت حاصل ٹھی چنانچہ سیاستدانوں نے انتخابات کے نتائج مسترد کرتے ہوئے اسے دھاندلی سے بھر پور الیکشن قرار دیا اور نتیجے کے طور پر اب انہیں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں کوئی دلچسپی نہیں رہی تھی جن میں سرکاری جماعت کنونشن مسلم لیگ دو تہائی اکثریت سے کامیاب ہو گئی ۔ 23 مارچ 1965 کو صدر ایوب نے صدر کے عہدے کی دوسری معیاد کے لیے حلف اٹھایا جس کے بعد ان کی حکومت کا دوسرا دور شروع ہوا اپنے اس نئے دور میں انہوں نے اسمبلیوں کی بھاری اکثریت کی حمایت حاصل کی تھی یہ بات بہت اہم ہے کہ انہی انتخابات کے دوران جون 1964 میں شیخ مجیب الرحمن نے عوامی لیگ کا منشور جاری کیا جس میں دو الگ الگ معیشتوں کے ساتھ ایک ایسے ائین کا مطالبہ بھی شامل تھا جس کی بنیاد 1940 کی قرارداد لاہور پر رکھی گئی ہو ایسا آئین جس میں بقول ان کے دو آزاد مملکتوں کے قیام کی ضمانت موجود ہو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ صدارتی انتخابات میں مشترکہ اپوزیشن کی شکست کے بعد جس کی قیادت مشرقی پاکستان سے شیخ مجیب الرحمن اور چند رہنما کر رہے تھے کہ ذہن میں یہ خیال پیدا ہوا کہ مشرقی پاکستان کی خود مختاری کے مطالبے کو منوانے کے لیے زیادہ انتہا پسندانہ اقدامات ضروری ہو چکے ہیں انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہو جانے کے بعد فیلڈ مارشل ایوب خان کی نظر ترقی اور استحکام کی ایک نئے دور کے آغاز پر لگی ہوئی تھی لیکن اس کے یہ منصوبے اس وقت تشنہ تکمیل رہ گئے جب 13 اپریل 1965 کو بھارت نے رن آف کچھ میں پاکستان کی فوجی چوکی پر زبردست حملہ کیا حالانکہ بھارت نے بیس ہزار فوجیوں کے علاوہ چھاتا پردار افواج بھی اس متنازعہ علاقے میں اتار دی تھی تاہم ہمارے فوجیوں نے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جس کے بعد 30 جون 1965 کو اقوام متحدہ کی کوششوں سے جنگ بندی عمل میں اگئی اور اس تنازع کو ثالثی کی غرض سے بین الاقوامی ٹرمینل کے سپرد کر دیا گیا تاہم یہ جنگ بندی دیر پاثابت نہ ہو سکی کیونکہ 24 اگست 1965 کو بھارت نے گجرات ضلع کے گاؤں کے عوام پر گولہ باری شروع کر دی اور ازاد کشمیر کے گاؤں پر بھی حملہ کر دیا اس حملے کا جواب دیتے ہوئے ازاد کشمیر کی فوج نے پاکستانی افواج کی مدد سے جنگ بندی لائن عبور کرتے ہوئے چھمب اور جوڑیوں پر قبضہ کر لیا پاکستانی افواج ابھی اکھنور سے چھ میل کے فاصلے پر تھی کہ چھ ستمبر 1965 کو اللصبح بھارت نے مغربی پاکستان کی سرحدوں پر ایک اور بڑا حملہ کر دیا دونوں ممالک کے درمیان 17 دنوں تک یہ خون ریز جنگ جاری رہی تاہم بڑی طاقتوں کی مداخلت سے 23 ستمبر 1965 کو اس جنگ کا خاتمہ ہوا۔
Lahore 37°C


