اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) اسلام آباد کی جانب سے انکم ٹیکس سے استثنیٰ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ڈی ایچ اے اسلام آباد انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 49(2) کے تحت ’’لوکل اتھارٹی‘‘ کے زمرے میں نہیں آتا۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس محمد شفیع صدیقی بھی شامل تھے۔
ڈی ایچ اے اسلام آباد نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ مقامی اتھارٹی کی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے اسے انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 49(2) کے تحت ٹیکس استثنیٰ حاصل ہونا چاہیے۔ ڈی ایچ اے نے ٹیکس سال 2005، 2006، 2007 اور 2008 کے ریٹرنز میں اسی بنیاد پر استثنیٰ کا دعویٰ کیا تھا۔
بعد ازاں محکمہ انکم ٹیکس نے ان اسیسمنٹس میں ترمیم کرتے ہوئے قرار دیا کہ ڈی ایچ اے ’’لوکل اتھارٹی‘‘ نہیں ہے اور اسے حاصل ٹیکس استثنیٰ درست نہیں۔
معاملہ پہلے کمشنر ان لینڈ ریونیو اپیلز اور بعد ازاں اپیلیٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو کے سامنے گیا، جہاں ڈی ایچ اے کے مؤقف کو تسلیم کیا گیا۔ بعد میں ریونیو حکام نے معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں اٹھایا، جس کے فیصلے کے خلاف ڈی ایچ اے نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ڈی ایچ اے اسلام آباد نے ایسے شواہد پیش نہیں کیے جن سے ثابت ہو کہ اسے میونسپل یا مقامی فنڈ کے انتظام و کنٹرول کی ذمہ داری حاصل ہے یا اسے کسی مقامی علاقے میں ٹیکس، ڈیوٹی، ریٹ یا سیس عائد کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہے۔
عدالت کے مطابق محض کسی مخصوص علاقے میں کام کرنا اور ترقی، منصوبہ بندی، ریگولیشن اور انتظامی نوعیت کے عوامی فرائض انجام دینا کسی ادارے کو قانونی طور پر ’’لوکل اتھارٹی‘‘ قرار دینے کے لیے کافی نہیں۔
سپریم کورٹ نے ڈی ایچ اے کی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے انکم ٹیکس استثنیٰ کے دعوے کو برقرار رکھنے سے انکار کر دیا۔
Lahore 26°C


