اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر پابندی سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران آئندہ تاریخ پر کیس کے میرٹس پر دلائل طلب کر لیے۔
سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر سے بھی عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے متعلق پارٹی کا مؤقف پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔
دوسری جانب توہینِ عدالت سے متعلق کارروائی میں سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے عدالت میں جواب جمع کرایا گیا۔ جیل حکام نے مؤقف اپنایا کہ عمران خان سے ملاقاتوں کے دوران سیاسی معاملات پر گفتگو ہوتی ہے، جس کے باعث ملاقات کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ اگر سلمان اکرم راجہ ملاقات کے دوران سیاسی گفتگو نہ کرنے کی یقین دہانی کرائیں تو ملاقات کی اجازت دینے کے معاملے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے جیل حکام سے آئندہ سماعت پر واضح جواب بھی طلب کرلیا کہ سیاسی گفتگو نہ ہونے کی صورت میں عمران خان سے ملاقات کرائی جائے گی یا نہیں۔
سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان سے مشاورت کے بغیر کیس کے میرٹس پر مؤثر دلائل دینا ممکن نہیں، کیونکہ وہ مقدمے کے مرکزی فریق ہیں۔ ان کے مطابق انہیں اپنے مؤکل سے ضروری ہدایات لینے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
عدالت نے اڈیالہ جیل حکام سے استفسار کیا کہ سلمان اکرم راجہ کو وکالت نامے پر دستخط کرانے کے لیے عمران خان سے ملاقات کیوں نہیں کروائی جا رہی۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ نومبر 2025 میں عدالت کی جانب سے ملاقات کا حکم دیا گیا تھا۔ اگر جیل حکام کو اس حکم پر کوئی اعتراض تھا تو انہیں قانونی طریقہ اختیار کرتے ہوئے اپیل دائر کرنی چاہیے تھی، عدالتی حکم کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
سماعت کے دوران پی ٹی آئی کی جانب سے معاون وکیل پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ بیرسٹر گوہر اس وقت شہر میں موجود نہیں اور آئندہ سماعت پر پیش ہو جائیں گے۔
عدالت نے واضح کیا کہ بیرسٹر گوہر کی ذاتی حاضری ضروری نہیں، صرف پارٹی کا مؤقف عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔
سلمان اکرم راجہ نے مزید کہا کہ مذکورہ مقدمے سے پی ٹی آئی کا براہِ راست تعلق نہیں، وہ عمران خان کی جانب سے کیس کی پیروی کر رہے ہیں، تاہم انہیں اپنے مؤکل سے ہدایات لینے کا موقع نہیں دیا جا رہا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے مزید کارروائی آئندہ سماعت تک ملتوی کردی۔
Lahore 37°C


