اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کل تک ملتوی کردی۔
سماعت کے دوران اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت کو بتایا کہ میرٹس پر دلائل سے قبل وہ درخواست کے پس منظر سے عدالت کو آگاہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مئی 2022 میں سپریم کورٹ کو دی گئی یقین دہانی کے باوجود عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی گئی، جبکہ 2024 میں بھی اس عدالت کے حکم پر عمل نہیں کیا گیا۔
اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ 2022 میں بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کارکنوں کو ڈی چوک پہنچنے کی کال دی تھی، جس کے دوران عوامی املاک کو نقصان پہنچا اور بلیو ایریا میں گرین بیلٹ کو آگ لگائی گئی۔ انہوں نے نومبر 2024 کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر بھی ایسی ہی صورتحال پیدا ہوئی تھی۔
انہوں نے عدالت سے سوال کیا کہ کیا موجودہ صورتحال میں صوبائی حکومتوں کو ہدایات جاری کی جاسکتی ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ اپنے دائرہ اختیار میں شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے احکامات جاری کرسکتی ہے۔
اٹارنی جنرل کے مطابق آئین کا آرٹیکل 5 ہر شہری کو ریاست سے وفاداری اور قانون کی پابندی کا پابند بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی انتظامی ادارہ اپنا کردار ادا نہ کرے تو عدالت اسے ضروری ہدایات جاری کرسکتی ہے تاکہ احتجاج کے باعث عام شہریوں کی زندگی اور کاروبار متاثر نہ ہو۔
اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا شاہ فیصل نے روسٹرم پر آکر مؤقف پیش کیا اور سوال اٹھایا کہ لانگ مارچ کو حملہ کیوں تصور کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت متعدد بار سیاسی جماعت کے سربراہ سے ملاقات کا حکم دے چکی ہے، تاہم ان احکامات پر عملدرآمد نہیں ہوا اور اس معاملے پر درجنوں توہینِ عدالت کی درخواستیں بھی دائر ہوچکی ہیں۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ عدالتیں اپنے احکامات پر عملدرآمد کرانا جانتی ہیں اور انہیں کسی سیاسی جماعت کی حمایت یا طاقت کی ضرورت نہیں۔
ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے دلائل کے لیے مزید دو دن کی مہلت طلب کی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کل تک وقت دیا جا سکتا ہے اور ہدایت کی کہ دلائل کا آغاز کل کیا جائے۔
عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔
Lahore 37°C


