بالاُخر تین سال سے زائد جیل کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد عمران جیل سے ہسپتال منتقل کر دئے گئے اسلام آباد کا شفاء ہسپتال اسلام آباد کا عالمی معیار کا مگر منہگا ترین ہسپتال ہے جہاں عام آدمی تو درکنار اپر کلاس بھی سوچ سمجھ کر ہی جاتی ہے اس ہسپتال کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ نعش بھی وارثان کوُاس وقت تک نہیں دیتے جب تک ان کا ملیئنز کا بل ادا نہیں ہوجاتا یہ ہی وجہ ہے کہ عدالت نے ایک سوال یہ بھی پوچھا تھاُکہ شفاء سنٹر نیشنل کا بل کون ادا کرے گا جس پر عمران خان کی پارٹی نے یقین شفاء ہسپتال کا بل ہم خود ادا کریں گے عمران خان کی ایک خوش قسمتی یہ بھی ہے کہ انہیں اربوں روپے کے حصول کے لئے بھی محنت نہیں کرنی پڑتی بس ایک اپیل کافی ہوتی ہے خیر خان صاحب کی سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے نتیجے میں کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے اور خان صاحب جیل سے اپنی پسند کے ہسپتال  میں منتقل ہو گئے لیکن خان صاحب کے چاہنے والوں کو خبر ہو کہ خان صاحب رہا نہیں ہوئے بلکہ بدستور قید میں ہیں اور ہسپتال کو ایک سرکاری نوٹی فی کیشن کے ذریعے سب جیل قرار دیا گیا ہے اور خان صاحب تک رسائی صرف ڈاکٹر ز کی ہی ہوگی جبکہ ہسپتال کے اندر اور باہر پولیس کاُسخت پہرہ رہے گا خان صاحب کو ملنے والی رعائت کے بارے مین دو ممکنات گردش میں ہیں ایک تو یہ کہ خان صاحب کی طبیعت واقعی اس حد تک خراب ہو چکی ہے کہ علاج کی عدم دستابی ان کے لئے جان لیوا ہو سکتی تھی اور اگر جیل کے اندر خان صاحب انتقال کر جاتے تو اس سانحے کا رد عمل سنبھالنا حکومت بنانے والوں یا کرنے والوں دونوں کے لئے مشکل ہو جاتا اس لئے خان صاحب علاج تک رسائی دینا ہی بہتر حکمت عملی تھی لیکن یہ حکمت عملی حکومت بنانے والوں کی ہی تھی حکومت کرنے والے تو سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر بہت سیخ پاء دیکھائی دیے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو اختیارات سے تجاوز بھی قرار دے رہے ہیں جس پر نظر ثانی کی درخواست کمشنر اسلام آباد کے ذریعے دائر کرنے کے ایک کمزور اور مضحکہ خیز کوشش بھی کی گئی کمزور اور مضحکہ خیز اس لئے کہ درخواست اس سے دائرُکروائی گئی اور اس میں فریق ہی نہیں تھا اور اسی اعتراض کی بناء پر رجسٹرار سپریم کورٹ نے ری ویو پٹیشن واپس کردی بات دوسری جانب نکل گئی بات ہو رہی تھی کہ حکومت کرنے والے اس فیصلے سے ناخوش ہیں اور اس ناراضگی کا اظہار انہوں نے نظر ثانی دائر کرنے کے اعلانات سے کیا بھی لیکن کرنے اور کروانے والے بھی منصوبہ بندی ٹھوس کرتے ہیں اس لیے حکم صرف ہسپتال منتقل کرنے کا نہیں آیا بلکہ دو دن میں منتقل کرنے کا دیا گیا اور فیصلہ کی نقل براہ راست عمل درآمد کے لئے سپرنٹنڈنٹ جیل کو ارسال کردی گئی چونکہ منصوبہ بندی انہی کی تھی جوعملدرآمد روکنے کے قوت رکھتے ہیں تو سپرنٹنڈنٹ جیل کی کیا مجال کے مزاحمت کرے اور جب تک اشارہ نہ ہو اس کی کیا مجال کے عمل درآمد کر دے اور اس کی مثال کے طور پر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلے تاریخ کے کوڑے دان میں پڑے ہوئے آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں تاہم اور پاور کوریڈور کوُجانے والے راستے کا یہ سگنل تاریخ گواہ ہے کہ اس وقت تک گرین نہیں ہو سکتا جب تک کہ ڈیل نہ ہوجائے تو بات اگر ایسی نہیں تھی کہ علاج نہ ہونے کی صورت میں جان چلی جائے تو بھی علاج تو پمز میں بھی ہوُسکتا تھا تو علاج اور اس کے لئے بھی انتخاب من پسند ہسپتال کا اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب ڈٹے رہنے والے کے اعصاب جواب دے جائیں اور اعصاب جواب دے جانے اور ٹوٹ جانے میں بھی خان صاحب کو قصور وار قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ کسی بھی لیڈر کی استقامت اور اعصاب کو ٹانک اس کی پارٹی اور اس کے ووٹرز ہوتے ہیں پارٹی نے متعدد کوششیں کی کہ جدو جہد کے راستے سے خان کو رہا کروایا جائے اس کے لئے پہلے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور قافلہ لے کر اسلام آباد آئے لیکن ڈی چوک تک نہ پہنچ سکے پھر ضمانت پرُرہائی پاکر خیبر پختون خواہ میں سکونت اختیار کرنے والے عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی خان کی رہائی کاُقافلہ لے کر چلیں لیکن ڈی چوک کے قریب پہنچ گنڈا علی امین گنڈا پور سمیت اس وقت راہ فرار اختیار کر گئیں جب انہیں اندازہ ہوا گولی چل سکتی ہے پھر وہ گولیان قافلے مین شام خان کے متوالوں غریب کے بچوں نے کھائیں جس کے بعد خان صاحب نے صوبے کے قیادت تبدیل کی لیکن گنڈا پور کی طرح صوبے کے تمام وسائل استعمال کرنے کے باوجود سہیل آفریدی بھی طاقت کے بل پر مقصد حاصل نہ کرسکے تو یہ ناکامیاں خاں صاحب کیا کسی کی بھی اعصاب شکنی کے لئے کافُی ہیں پھر ُہوا یہ کہ جیل کی اندر کی مقید جب بشری بی بی اور خان صاحب اسی نتیجے پرُپہنچے کہ جیل میں پڑے پڑے مرجانا تو کوئی دانشمندی نہیں کہ جان ہے تو جہان ہے لہذا سرنڈر کیا جائے تاکہ رہائی ممکن ہو سکے لیکن سرنڈر کی بھی شرائط ہوتی ہیں اور اس سرنڈر کی شرائط یہ ہیں نئے صوبوں کی تشکیل میں تعاون ۲ اٹھائیسویں ترمیم کی منظوری میں تعاون ۳ مکمل اقتدار نہیں صرف اقتدار میں حصہ مگر شرائط صرف تسلیم عملدرآمد کے لیے تلوار بھی سر پر لٹکتی رہنی چاہیئے یعنی مکمل رہائی نہیں علاج کے لئے ہسپتال منتقلی جس پر عملدرآمد ہو چکا ہے مکمل رہائی کے لئے شرائط پر عمل مکمل ممکن کوسکے گے ورنہ صحتیابی کے بعد واپس جیل