SBP Policy Rate

SBP EasyData سے ماخوذ تاریخی ڈیٹا

SBP ماخوذ
تازہ ترین: 28 Apr 2026
موجودہ قدر
11.5%
Apr 2026
▲ 1.0 pp (9.5%)
ریکارڈ بلند
22.0%
ریکارڈ کم
5.8%
تعدد
Event

SBP Policy Rate رجحان

ماخذ: اسٹیٹ بینک آف پاکستان — EasyData

خلاصہ — Apr 2026

SBP Policy Rate کی موجودہ قدر 11.5% ہے (Apr 2026)۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں -8.5 (-42.5%) کی کمی ہوئی۔ ریکارڈ بلند ترین قدر 22.0% اور کم ترین 5.8% رہی۔

SBP Policy Rate — تاریخی ڈیٹا

تاریخ قدر تبدیلی
28 Apr 2026 11.5% ▲ 1.0 pp
16 Dec 2025 10.5% ▼ -0.5 pp
06 May 2025 11.0% ▼ -1.0 pp
28 Jan 2025 12.0% ▼ -1.0 pp
17 Dec 2024 13.0% ▼ -2.0 pp
05 Nov 2024 15.0% ▼ -2.5 pp
13 Sep 2024 17.5% ▼ -2.0 pp
30 Jul 2024 19.5% ▼ -1.0 pp
11 Jun 2024 20.5% ▼ -1.5 pp
27 Jun 2023 22.0% ▲ 1.0 pp
05 Apr 2023 21.0% ▲ 1.0 pp
03 Mar 2023 20.0% ▲ 3.0 pp
24 Jan 2023 17.0% ▲ 1.0 pp
28 Nov 2022 16.0% ▲ 1.0 pp
13 Jul 2022 15.0% ▲ 1.3 pp
24 May 2022 13.8% ▲ 1.5 pp
08 Apr 2022 12.3% ▲ 2.5 pp
15 Dec 2021 9.8% ▲ 1.0 pp
22 Nov 2021 8.8% ▲ 1.5 pp
21 Sep 2021 7.3% ▲ 0.3 pp
26 Jun 2020 7.0% ▼ -1.0 pp
18 May 2020 8.0% 0.0 pp
16 May 2020 8.0% ▼ -1.0 pp
17 Apr 2020 9.0% 0.0 pp
16 Apr 2020 9.0% ▼ -2.0 pp
25 Mar 2020 11.0% ▼ -1.5 pp
18 Mar 2020 12.5% ▼ -0.8 pp
17 Jul 2019 13.3% ▲ 1.0 pp
21 May 2019 12.3% ▲ 1.5 pp
01 Apr 2019 10.8% ▲ 0.5 pp
01 Feb 2019 10.3% ▲ 0.3 pp
03 Dec 2018 10.0% ▲ 1.5 pp
01 Oct 2018 8.5% ▲ 1.0 pp
16 Jul 2018 7.5% ▲ 1.0 pp
28 May 2018 6.5% ▲ 0.5 pp
29 Jan 2018 6.0% ▲ 0.3 pp
23 May 2016 5.8% ▼ -0.3 pp
14 Sep 2015 6.0% ▼ -0.5 pp
25 May 2015 6.5% —

عام سوالات

SBP کی موجودہ شرح سود کیا ہے؟

SBP کی پالیسی (ٹارگٹ) شرح سود 11.5% ہے، 28 Apr 2026 سے مؤثر۔

شرح سود کون طے کرتا ہے؟

مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) جو SBP کے تحت کام کرتی ہے، ہر 6-8 ہفتے بعد میٹنگ میں شرح سود کا فیصلہ کرتی ہے۔ بنیادی مقصد مہنگائی کو قابو میں رکھنا ہے۔

شرح سود سے قرضے کیسے متاثر ہوتے ہیں؟

بینک اپنے قرضوں کی شرح KIBOR پر مبنی رکھتے ہیں جو پالیسی ریٹ سے متاثر ہوتی ہے۔ جب SBP شرح بڑھاتا ہے تو گھر، گاڑی اور کاروباری قرضے مہنگے ہو جاتے ہیں۔

SBP شرح سود — مکمل گائیڈ

پالیسی ریٹ کیا ہے؟

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی پالیسی (ٹارگٹ) شرح سود وہ بنیادی شرح ہے جس پر SBP تجارتی بینکوں کو قلیل مدتی قرضے فراہم کرتا ہے۔ یہ پاکستان کی معیشت میں سب سے اہم سود کی شرح ہے کیونکہ تمام دوسری شرحیں — بینک قرضے، ڈپازٹ، سرکاری بانڈز — بالواسطہ یا بلاواسطہ اسی سے طے ہوتی ہیں۔

MPC کیا ہے اور فیصلہ کیسے ہوتا ہے؟

مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) SBP کے تحت کام کرتی ہے اور ہر 6 سے 8 ہفتے بعد میٹنگ کرتی ہے۔ کمیٹی افراط زر کے رجحانات، معاشی ترقی کی رفتار، زرمبادلہ ذخائر، عالمی معاشی حالات اور مالیاتی پالیسی کا جائزہ لیتی ہے۔ ہر میٹنگ کے بعد فیصلہ جاری کیا جاتا ہے — شرح بڑھانا، کم کرنا یا برقرار رکھنا — ایک تفصیلی بیان کے ساتھ جس میں وجوہات بیان کی جاتی ہیں۔

شرح سود آپ کو کیسے متاثر کرتی ہے؟

قرضے: بینک اپنے قرضوں کی شرح KIBOR پر مبنی رکھتے ہیں جو پالیسی ریٹ سے متاثر ہوتی ہے۔ جب SBP شرح بڑھاتا ہے تو گھر کا قرضہ، گاڑی کی قسط اور کاروباری لون سب مہنگے ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر 12% پالیسی ریٹ پر ہاؤسنگ لون KIBOR + 2-3% یعنی تقریباً 14-15% سالانہ ہو سکتا ہے۔

بچت: اونچی شرح سود کا مطلب ہے بینک ڈپازٹس اور سیونگز سرٹیفکیٹس پر زیادہ منافع۔ جب پالیسی ریٹ 22% تھا تو بچت اکاؤنٹس پر 18-20% تک منافع مل رہا تھا۔

کاروبار: چھوٹے کاروبار جو بینک قرضوں پر انحصار کرتے ہیں، اونچی شرح سود سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اس سے نئی سرمایہ کاری اور ملازمتوں میں کمی آ سکتی ہے۔

شرح سود اور افراط زر کا تعلق

SBP شرح سود بڑھا کر افراط زر کو قابو میں لاتا ہے۔ منطق یہ ہے: زیادہ شرح سود → مہنگے قرضے → کم خرچ → کم مانگ → قیمتوں میں کمی۔ عملی طور پر یہ عمل 6 سے 12 ماہ لیتا ہے۔ جب 2022-23 میں افراط زر 35% سے تجاوز کر گئی تو SBP نے شرح سود 22% تک بڑھا دی — پاکستان کی تاریخ کی بلند ترین سطح۔ اس کے بعد افراط زر آہستہ آہستہ کم ہوئی اور SBP نے 2024-25 میں شرح سود کم کرنا شروع کی۔

شرح سود اور زرمبادلہ ذخائر

اونچی شرح سود غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستانی بانڈز میں سرمایہ کاری کی ترغیب دیتی ہے، جس سے ڈالر آتے ہیں اور ذخائر بڑھتے ہیں۔ تاہم بہت زیادہ اونچی شرح سود سے معاشی سست روی آ سکتی ہے جو طویل مدت میں ذخائر کے لیے نقصان دہ ہے۔

تمام ڈیٹا SBP EasyData سے ماخوذ ہے۔ بی خبر پاکستان سرمایہ کاری فیصلوں کا ذمہ دار نہیں۔
Muhammad Awais Rashid, ACMA