امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے ایران کے مختلف فوجی اہداف پر حملوں کے بعد تہران نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم حملوں سے ہونے والے نقصانات اور ہلاکتوں سے متعلق دونوں ممالک کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔

امریکی فوجی کارروائیوں کے اہداف کیا تھے؟

امریکی حکام کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں ایران کے میزائل ذخائر، فضائی دفاعی نظام، نگرانی کے مراکز اور اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) سے منسلک تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت کو محدود کرنا اور امریکی فوجیوں اور مفادات کے خلاف مبینہ حملوں کا جواب دینا تھا۔ امریکی حکام نے اپنی کارروائیوں کو حقِ دفاع کے تحت جائز قرار دیا ہے۔

ایران نے امریکی دعوے مسترد کر دیے

دوسری جانب ایرانی حکام نے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے نقصانات اور ہلاکتوں سے متعلق پیش کیے جانے والے اعداد و شمار مبالغہ آمیز ہیں۔

ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کی دفاعی اور فوجی صلاحیت کو اس حد تک نقصان نہیں پہنچا جس کا تاثر امریکی حکام دے رہے ہیں۔ تہران کے مطابق ملک کی اہم دفاعی تنصیبات اور آپریشنل صلاحیت بدستور فعال ہے۔

تاہم متاثرہ علاقوں تک بین الاقوامی صحافیوں اور آزاد مبصرین کی محدود رسائی کے باعث دونوں جانب سے کیے جانے والے دعوؤں کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تصدیق فی الحال مشکل ہے۔

ایران کا اقوامِ متحدہ کو خط

امریکی حملوں کے بعد ایران نے اقوامِ متحدہ کو ایک باضابطہ خط ارسال کیا ہے، جس میں واشنگٹن پر ایران کی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

تہران نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی فوجی کارروائیوں کی مذمت کرے، فوری مداخلت کرے اور امریکہ پر مزید حملے روکنے کے لیے دباؤ ڈالے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی کارروائیاں اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے منافی ہیں اور ان کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ ایک وسیع تر جنگ کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

امریکہ کا مؤقف: کارروائی حقِ دفاع کے تحت کی گئی

امریکہ نے ایرانی الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں امریکی اہلکاروں، تنصیبات اور مفادات پر ہونے والے حملوں کے جواب میں کی گئی ہیں۔

واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت کسی بھی ملک کو اپنے فوجیوں اور مفادات کے دفاع کا حق حاصل ہے، اس لیے یہ کارروائیاں حقِ دفاع کے اصول کے مطابق کی گئی ہیں۔

وسیع علاقائی جنگ کا خطرہ

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست فوجی کشیدگی پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے خطرناک نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ کسی بھی نئی کارروائی کے جواب میں ایران یا اس سے منسلک گروہوں کی جانب سے ردعمل سامنے آیا تو عراق، شام، خلیجی ممالک اور اہم بحری راستے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

خاص طور پر عالمی توانائی کی ترسیل اور تجارتی راستوں میں ممکنہ رکاوٹ تیل کی قیمتوں، عالمی تجارت اور خطے کی معاشی صورت حال پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔

دعویٰ اور حقیقت میں فرق برقرار

چونکہ تنازع ابھی جاری ہے، اس لیے ہلاکتوں، فوجی نقصانات اور حملوں کے حقیقی اثرات سے متعلق معلومات مسلسل تبدیل ہو رہی ہیں۔ امریکہ اور ایران دونوں اپنے اپنے مؤقف کے حق میں دعوے کر رہے ہیں، لیکن مکمل تصویر سامنے آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔

ایسی صورت حال میں کسی بھی فریق کے دعوے کو حتمی حقیقت سمجھنے کے بجائے آزاد، معتبر اور متعدد ذرائع سے تصدیق ضروری ہے۔

نتیجہ

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی غیر یقینی صورت حال پیدا کر دی ہے۔ ایران کی جانب سے اقوامِ متحدہ سے فوری مداخلت کی اپیل اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تہران اس تنازع کو سفارتی سطح پر بھی اٹھانا چاہتا ہے۔

تاہم اقوامِ متحدہ کی ممکنہ کارروائی، امریکہ کے آئندہ فیصلے اور ایران کے ردعمل کا تعین آنے والے دنوں میں ہوگا۔ فی الحال سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ محدود فوجی کارروائیاں کسی بڑی علاقائی جنگ میں تبدیل نہ ہو جائیں