وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے حالیہ دورہ لاہور پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا سے آنے والے چند افراد سڑک کنارے بیٹھے رہے اور کسی نے انہیں پہچانا تک نہیں۔

مریم نواز نے موٹرسائیکل سواروں سے ہیلمٹ پہننے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ موٹرسائیکل چلاتے وقت ہیلمٹ ضرور پہنیں۔

سہیل آفریدی کا نام لیے بغیر وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ڈھائی افراد کا جلوس گزر رہا تھا اور اس دوران ایک شخص نے کرسی مانگی تو وینڈر نے کرسی اندر رکھتے ہوئے کہا کہ وہ کرسی نہیں دے گا کیونکہ چوری ہوجائے گی۔ مریم نواز کے مطابق وینڈر کو بھی معلوم تھا کہ چوری کرنے والے کون ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ دورہ اس قدر ناکام تھا کہ انہوں نے لاہور کے ڈپٹی کمشنر کو ڈانٹا اور کہا کہ استقبال کے لیے کم از کم چار پانچ سو افراد ہی کھڑے کر دیے جاتے۔ ان کے مطابق منتظمین افراد تلاش کرتے رہے لیکن انہیں لوگ نہیں مل سکے۔

مریم نواز نے کہا کہ لاؤڈ اسپیکر پر حکومت کے خلاف نعرے لگائے گئے اور فارم 45 ، 46 اور 47 کا ذکر کیا گیا ، تاہم پنجاب کے عوام نے اس پر توجہ نہیں دی۔ ان کے مطابق بعض افراد پنجاب پولیس کی گاڑی میں جاکر بیٹھ گئے اور پولیس اہلکار انہیں وہاں سے اتارتے رہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے سرکاری جہاز کے استعمال پر اٹھنے والے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جہاز ان کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ وزیراعلیٰ پنجاب کے عہدے کے استعمال میں پنجاب حکومت کا جہاز ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ ان کی بیٹی کی گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے لندن جانے کے دوران سرکاری جہاز کے استعمال کے اخراجات انہوں نے اپنی جیب سے ادا کیے۔ آج کی رپورٹس کے مطابق اس سفر کے لیے 27,194,004 روپے پنجاب حکومت کو ادا کیے گئے ہیں۔

انہوں نے رسید کے معاملے پر کہا کہ وہ کسی یوٹیوبر یا میڈیا پرسن کو جواب دہ نہیں ہیں اور جو لوگ سوالات کر رہے ہیں وہ کرتے رہیں۔

مریم نواز نے اپنی حکومت کے منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ 200 ارب روپے کے گھروں، 200 ارب روپے کی الیکٹرک بسوں، نئے اسپتالوں اور کینسر اسپتالوں جیسے منصوبوں پر کتنے پروگرام کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب سرکاری جہاز کے استعمال کا معاملہ گزشتہ دنوں سیاسی بحث کا موضوع بھی رہا۔ پنجاب اسمبلی کے ایک اپوزیشن رکن نے اس حوالے سے اسمبلی میں فوری بحث کا مطالبہ کیا تھا اور سرکاری وسائل کے ممکنہ استعمال سے متعلق وضاحت طلب کی تھی۔

سہیل آفریدی کا دورہ لاہور بھی پولیس کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے باعث خبروں میں رہا ، جبکہ سہیل آفریدی نے پولیس کارروائی پر اعتراضات اٹھائے تھے اور پنجاب حکومت کی جانب سے ان کے دعووں کی تردید کی گئی۔