تقسیم سے پہلے مجیب الرحمن ایک طالب علم رہنما تھے اور انہوں نے پاکستان کے لیے مسلم لیگ کی تحریک میں حصہ لیا۔ بعد میں وہ عوامی لیگ میں حسین شہید سہروردی کے نائب رہے۔

1966 میں لاہور میں ایک کنونشن ہوا، جس میں فیلڈ مارشل ایوب خان کے خلاف آواز اٹھائی گئی۔ اس کنونشن کے کنوینر نوابزادہ نصراللہ خان تھے۔ کنونشن میں مجیب الرحمن بھی شریک تھے اور پہلی بار یہیں پر مشہور ’’چھ نکات‘‘ پیش کیے گئے۔

مختلف ذرائع سے یہ بتایا گیا کہ چھ نکات کے خالق مجیب الرحمن نہیں تھے، بلکہ مغربی پاکستان کے کسی سول سرونٹ نے انہیں تیار کیا تھا۔ الطاف گوہر کا نام بھی لیا جاتا ہے۔ اس معاملے کی تفصیل میں جانا ضروری نہیں۔ اتنا کافی ہے کہ مشرقی پاکستان کے کچھ سول ملازمین نے، اس خیال سے متفق ہونے کی بنا پر کہ مشرقی پاکستان کو اگر آزادی نہ بھی ملے تو زیادہ سے زیادہ خودمختاری حاصل ہو، اس نظریے کی تشکیل میں حصہ لیا ہوگا۔

اس ڈرافٹ کے الفاظ ایسے تھے کہ عوامی لیگ کے رہنما، شیخ مجیب الرحمن یا شیخ مجیب الرحمن سے تعلق رکھنے والے دوسرے لوگ، جو زبان کے معاملے میں زیادہ ماہر نہیں تھے، مغربی پاکستان کے کسی باشندے کی مدد کے بغیر اسے تحریر نہیں کر سکتے تھے۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ تصور 1966 کے کنونشن سے پہلے پیش ہوا۔ کنونشن سے پہلے چھ نکات کی ایک کاپی نورالامین کو بھیجی گئی تھی، جو پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما تھے۔ انہوں نے پارٹی کے ایک اور رکن محمود علی کو یہ ڈرافٹ دکھایا اور دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس میں علیحدگی کے بیج بوئے گئے ہیں، جس کی وہ حمایت نہیں کر سکتے۔

محمود علی اور نورالامین یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ کاپی صرف انہیں ہی ملی ہے، لیکن اس وقت انہیں تعجب ہوا جب کنونشن میں شیخ مجیب الرحمن نے یہ چھ نکاتی کاپی نکال کر دکھائی۔

سب کو حیرت ہوئی، کیونکہ اس ڈرافٹ کی زبان بھی وہی تھی جو نورالامین کی کاپی میں تھی۔ وہ انہیں ڈھاکہ بھیجی گئی تھی اور اسی تحریر میں چھ نکات شامل کیے گئے تھے۔


چھ نکات

نکتہ نمبر ایک:

قراردادِ لاہور کے مطابق آئین کو حقیقی معنوں میں ایک فیڈریشن کی ضمانت دیتے ہوئے، بالغ رائے دہی کی بنیاد پر منتخب مقننہ کی بالادستی اور پارلیمانی طرزِ حکومت پر مبنی ہونا چاہیے۔

نکتہ نمبر دو:

وفاقی حکومت صرف دو محکمے، یعنی دفاع اور امورِ خارجہ، اپنے پاس رکھے گی، جبکہ دیگر محکمے وفاق تشکیل کرنے والی وحدتوں میں تقسیم کر دیے جائیں گے۔

نکتہ نمبر تین:

ملک کے دونوں بازوؤں میں دو علیحدہ مگر باہمی طور پر قابلِ تبدیل کرنسیاں ہوں، یا پورے ملک کے لیے ایک ہی کرنسی رکھی جائے، تاہم اس کے لیے مؤثر آئینی دفعہ کی تشکیل ضروری ہے تاکہ مشرقی پاکستان سے مغربی پاکستان کو کرنسی کی ترسیل روکی جا سکے۔

مشرقی پاکستان کے لیے علیحدہ بینکنگ ریزرو قائم کیا جائے۔