صرف میڈیا ہی کنٹرول نہیں ہوا سیاسی پارٹیوں کو بھی کنٹرول کی گئیں اور اس کوشش میں معتدخ سیاستدان حسین شہید سہر وردی خان عبدالقیوم خان مولانا بھاشانی اور شیخ مجیب الرحمان کو گرفتار کیا گیا لیکن شیخ مجیب الرحمان کو ایبڈو کے تحت گرفتار نہیں کی گیا بلکہ ان پر بد عنوانی کا مقدمہ چلایا گیا کس میں مجیب الرحمان با عزت بری ہوئے اور بنگالیوں کے ہیرو بن کر ابھرے شروع ممی۔ کچھ عرصہ ایوب خان نے سکون سے حکومت کی لیکن پھر انہیں سیاست دانوں اور طلباء کی بھر پور مزاحمت ک سامنا کرنا پڑا اور تعلیمی اصلاحات کے عجلت میں نفاذ کے سبب مشرقی پاکستان میں ایوب حکومت کے خلاف بڑا احتجاجی مظاہرہ ہوا
1962 کا سال پہلی مارشل لاء حکومت کی کامیابیوں کا سال تھا اس سال مشرقی پاکستان میں بڑے صنعتی منصوبوں کی بنیاد رکھی گئی سلہٹ میں فروری 1962 میں کھاد کے کارخانے کا فتتاح ہوا مارچ 1962 میں کرنافلی ملٹی پرپز ہائڈل پراجیکٹ کا افتتاح کیا ریلوے واپڈا اور ہاوس بکڈنگ فنانس کارپوریشن کو دو صوبوں نیں تقسیم کردیا گیا اس زمانے میں پاکستان ریلوے پاکستان ایسٹرن ریلوے اور پاکستان ویسٹرن ریلوے کہلاتی تھیں مشرقی اور مغربی دونوں صوبوں کی علیحدہ کارپوریشن قائم ہوئیں یہاں تک کے جولائی 1962 میں مرکزی ٹیکسوں سے حاصل ہونے ولی آمدن ک نصف سے زائد حصہ مشرقی پاکستان کو دیا گیا
ان کامیابیوں کی وجہ سے ایوب خان یہ دعوی کرتے تھے کہ انہوں نے ایک بنیادی ڈھانچہ بنا دی یے جس ہر ایک آزاد معاشرہ مستحکم حکومت اور مضبوط انظامیہ قائم ہو سکے گی اور وہ ایسا بھی محسوس مرنے لگے تھے کہ اب مناسب وقت آچکا کہ وہ اپنے بحالی جمہوریت جمہوریت کا وعدہ مکمل کریں اور اور وہ جمہورت نافذ کریں جو پاکستانی عوام کی روایات کے مطابق ہے لیکن صدر ایوب جے یہ اندازے غلط ثابت ہوئے انہیں یہ غلط فہمی اس لئے ہوئی کہ انہیں ایک عرصے سے مخالف اوازیں سنائی دینا بند ہو گئیں لیکن اس کی وجہ مقبولیت میں اضافہ نہیں بلکہ مخالفین اور پریس پر لگائی جانے والی بندشیں تھیں
Lahore 35°C


