صدر کسان اتحاد خالد محمود کھوکھر نے کہا ہے کہ اسلام آباد بند ہے تو پاکستان کا دل بند ہے۔

خالد محمود کھوکھر نے کہا کہ اس وقت نظام کے منہ پر طمانچہ لگا ہے، جو نویں جماعت کا رزلٹ آیا ہے اس میں 50 فیصد سے زیادہ بچے فیل ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں، خدا کے لیے مل بیٹھو اور اللہ کا حکم مانو۔ کیا کلمہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انتشار پھیلاؤ، معیشت کو تباہ و برباد کرو اور اپنی تعلیم کو برباد کر دو؟

انہوں نے علامہ اقبال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:

"فرد قائم ربطِ ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں

موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں"

خالد محمود کھوکھر نے کہا کہ کیا خیبر پختونخوا، پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں دودھ کی ندیاں بہہ رہی ہیں؟ ہر شخص پریشان ہے۔ بچوں کا اسکول نہ جانا نظام کے منہ پر طمانچہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج حالات حد سے زیادہ بگڑ چکے ہیں۔ کاشت کار کو آپ نے پاکستانی اور انسان تسلیم ہی نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گڈ گورننس نہیں ہے، اگر ہوتی تو ساڑھے 22 لاکھ کیسز زیرِ التوا نہ پڑے ہوتے۔

خالد محمود کھوکھر نے کہا، "خدا کی قسم ! ہم آپ کے تلوے بھی چاٹیں گے۔" انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے گزارش کی کہ اگلے دو سے تین دن میں انہیں حکم دیں کہ انہیں کہاں بٹھائیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی جماعتیں پاکستان کی معیشت کی خاطر اکٹھی ہو کر بیٹھ جائیں تو ہم انہیں سلوٹ پیش کریں گے، اور اگر پاکستان کے امن و امان کے لیے اکٹھے ہو کر بیٹھیں گے تو ہم انہیں سلوٹ پیش کریں گے۔

صدر کسان اتحاد نے سوال کیا کہ کب تک کشکول اٹھا کر باہر جاؤ گے؟ انہوں نے کہا کہ مکئی، چاول، گندم اور دالوں کی پیداوار میں کمی آ رہی ہے۔