ایوبی عہد کا اختتام اور جنرل یحیی کی اقتدار میں اینٹری یعنی دوسرے مارشل لاء کا آغاز
مشرقی پاکستان میں گورنر منم خان کے جبری اقدامات بدستور جاری تھے شیخ مجیب الرحمن پر دیگر 36 افراد کے ہمراہ مسلح بغاوت کے ذریعے مشرقی پاکستان کی ملک سے علیحدگی کی سازش کے الزامات عائد کیے گئے تھے اور ان پر اگرتلہ سازش کیس کے عنوان سے مقدمہ بنایا گیا جس کا اغاز جون 1968 میں ہوا مغربی پاکستان میں گورنر جنرل محمد موسی کے مصالحانہ اقدامات کے باوجود حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک برابر زور پکڑتی رہی جس نے نومبر 1968 میں کافی سنگین شکل اختیار کر لی اس تحریک میں ملک کے تمام طبقات شامل تھے وکیل ڈاکٹر طلبہ نے جلسوں کی صورت میں حکومت کے خلاف مظاہرے شروع کر دیے اور ایوب خان سے استعفی کا مطالبہ کیا جانے لگا حتی کہ فیلڈ مارشل ایوب خان پر پشاور کے ایک جلسے سے خطاب کے دوران قاتلانہ حملہ بھی کیا گیا جب حکومت نے محسوس کر لیا کہ احتجاجی تحریک پر قابو پانے کی غرض سے اس کی تمام کوششیں لا حاصل اور بے سود ثابت ہو رہی ہیں تو مجبورا اس نے تمام سیاسی لیڈروں کو قید سے رہا کر دیا اور اپوزیشن لیڈروں کو راولپنڈی میں راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی تاہم سیاسی جماعتوں نے جو اس وقت ڈائریکٹ ایکشن کمیٹی قائم کر چکی تھیں راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں شرکت کے لیے پیشگی شرط عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ایمرجنسی بلا تاخیر اٹھائی جائے ورنہ تحریک دستور جاری رہے گی ۔
14 فروری 1969 کو اپوزیشن کی جانب سے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا گیا اس دوران متعدد جلوس نکالے گئے جن کا پولیس سے تصادم ہوا اور اس کے نتیجے میں بے شمار افراد زخمی ہوئے ذوالفقار علی بھٹو نے جو اب تک زیر حراست تھے بھوک ہڑتال کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایمرجنسی فوری طور پر اٹھائی جائے اخر کار 17 فروری 1969 کو حکومت نے ایمرجنسی اٹھانے کا اعلان کر دیا جس کے نتیجے میں ذوالفقار علی بھٹو رہا کر دیے گئے حکومت کے اس اقدام کے بعد ڈائریکٹ ایکشن کمیٹی نے راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں شمولیت پر امادگی ظاہر کر لیکن پاکستان پیپلز پارٹی عوامی لیگ اور نیشنل عوامی پارٹی نے اس کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا کانفرنس کے انعقاد سے بیشتر ہونے والے ابتدائی مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے جس کے بعد کمیٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شیخ مجیب الرحمان کو بھی رہا کر کے کانفرنس پر امادہ کیا جائے شیخ مجیب الرحمن پیرول پر رہا ہو کر اس کانفرنس میں شرکت پر امادہ ہو بھی چکے تھے لیکن اسی اثناء میں اگر تلہ سازش کے ایک ملزم کو فرار ہونے کی کوشش کے شبہے میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا اس کی لاش اس کے عزیزوں کے سپر کر دی گئی میت کے لواحقین میت کو جلوس کی شکل میں لے کر شہر کی شاہراہوں سے گزرے جس پر ایک بپھرا ہوا ہجوم اس جنازے میں شامل ہو گیا اور اس ہجوم نے انتہائی سنگین نوعیت اختیار کر لی نفرت کی آگ نے پورے مشرقی پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ڈھاکہ کشتیاں اور نوا کھا لی میں پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کر دی جس میں نو افراد ہلاک اور 51 زخمی ہو گئے ۔
چنانچہ شیخ مجیب الرحمن نے اعلان کیا کہ وہ اس وقت تک راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں شریک نہیں ہوں گے جب تک اگر تلہ سازش کیس واپس نہیں لیا تھا 21 فروری 1969 کو ایوب خان نے اس فیصلے کا اعلان کیا کہ وہ ائندہ صدارتی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے 22 فروری کو وہ ارڈیننس بھی کالعدم قرار دے دیا گیا جس کے تحت ٹربیونل کے روبرو شیخ مجییب الرحمان اور ان کے ساتھیوں کے خلاف سازش کا مقدمہ چلایا جا رہا تھا جس کے نتیجے میں شیخ مجیب الرحمان رہا کر دیے گئے اور بعد میں راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں شریک ہوئے اس کانفرنس میں ایوب خان اس بات پر رضامند ہو گئے کہ ملک میں پارلیمانی نظام حکومت قائم رہے گا اور اسمبلیوں کے انتخابات براہ راست بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ہوں گے جس کے بعد نوابزادہ نصر اللہ خان نے ڈائریکٹ ایکشن کمیٹی توڑنے کا اعلان کر دیا تاہم شیخ مجیب الرحمان نے مشترکہ اپوزیشن سے یہ کہہ کر علیحدگی اختیار کر لی کہ اس نے علاقائی خود مختاری اور ون یونٹ کے خاتمے کے لیے ان کے مطالبات کی تائید نہیں کی ایوب خان نے اپنے گورنر بھی تبدیل کر دیے اس کے باوجود مشرقی پاکستان میں ایجیٹیشن بدستور جاری رہا 10 سے 20 مارچ کے دوران 39 افراد کو ڈھاکہ میں قتل کر دیا گیا اور لوٹ مار اور آتش زدگی کے بھی متعدد واقعات رونما ہوئے نئے گورنروں کے تقرر کے بعد کشیدگی میں کچھ کمی آ گئی تھی تحریک بھی رفتہ رفتہ دھیمی ہونے لگی تھی کہ اچانک 25 مارچ 1969 کو فیلڈ مارشل ایوب خان میں یہ اعلان کر دیا کہ وہ اپنے عہدے سے مستفی ہو چکے ہیں انہوں نے اقتدار کمانڈر ان چیف محمد یحیی خان کے سپرد کر دیا ہے اور اس طرح پاکستان میں ایوبی عہد کا خاتمہ ہو گیا ۔
25 مارچ 1969 کو جنرل یحیی خان نے مارشل لاء کا اعلان کر کے حکومت سنبھال لی اور خود پہلے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ہونے کا اعلان کیا اور بعد میں صدر ہونے کا اعلان کر دیا ۔
Lahore 31°C
Karachi 33°C


