محمد احمد خان قصوری کو ’’نواب‘‘ کا خطاب کیسے ملا؟

تحریر: الیاس چوہدری

بھگت سنگھ کی پھانسی برصغیر کی تاریخ کے ان واقعات میں شمار ہوتی ہے جنہوں نے سیاسی اور سماجی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ 23 مارچ 1931 کو بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کو لاہور میں پھانسی دی گئی۔ اس واقعے کے گرد آج بھی متعدد تاریخی روایات اور بحثیں موجود ہیں۔

بھگت سنگھ کی پھانسی اور محمد احمد خان قصوری

روایت کے مطابق اُس وقت پھانسی کے قانونی عمل میں جیل حکام اور مجسٹریٹ کی موجودگی و منظوری کو اہمیت حاصل تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ بھگت سنگھ کی پھانسی کے معاملے میں بعض حکام نے کارروائی کا حصہ بننے سے گریز کیا۔

اسی دوران قصور کے آنریری مجسٹریٹ محمد احمد خان قصوری کا نام سامنے آتا ہے۔ بعض تاریخی روایات کے مطابق انہوں نے بھگت سنگھ کے ڈیتھ وارنٹ سے متعلق کارروائی میں حصہ لیا اور پھانسی کے عمل کی نگرانی کے لیے آمادگی ظاہر کی۔

روایت میں یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ محمد احمد خان قصوری کی موجودگی میں لاہور سینٹرل جیل میں بھگت سنگھ کو پھانسی دی گئی، تاہم اس واقعے سے متعلق تاریخی تفصیلات کے مختلف بیانات بھی ملتے ہیں۔

’’نواب‘‘ کا خطاب کیسے ملا ؟

ایک مشہور روایت کے مطابق بھگت سنگھ کی پھانسی کے عمل میں برطانوی حکومت کے ساتھ تعاون اور سرکاری خدمات کے اعتراف میں محمد احمد خان قصوری کو ’’نواب‘‘ کا خطاب دیا گیا۔ بعد ازاں وہ برطانوی دور میں عدالتی و انتظامی عہدوں سے وابستہ رہے۔

یہی وجہ ہے کہ محمد احمد خان قصوری کا نام بعد کی تاریخ میں بھگت سنگھ کی پھانسی کے حوالے سے ہونے والی بحث میں بھی سامنے آتا ہے۔

کئی دہائیوں بعد ایک اور المناک واقعہ

بھگت سنگھ کی پھانسی کے تقریباً 43 برس بعد 11 نومبر 1974 کو محمد احمد خان قصوری کو لاہور میں ایک کار پر حملے کے دوران قتل کر دیا گیا۔ یہ قتل بھی پاکستانی سیاسی تاریخ کا ایک انتہائی اہم اور متنازع واقعہ بن گیا۔

قتل کے مقدمے میں اُس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو پر سازش میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔ مقدمہ طویل عدالتی کارروائی کے بعد بھٹو کی پھانسی پر منتج ہوا۔

یوں محمد احمد خان قصوری کی زندگی دو مختلف تاریخی ادوار کے انتہائی اہم واقعات سے جڑ گئی—ایک طرف بھگت سنگھ کی پھانسی کا واقعہ اور دوسری طرف ان کے اپنے قتل کا مقدمہ، جس میں ذوالفقار علی بھٹو کو سزا سنائی گئی۔

تاریخ کا یہ باب آج بھی سوالات، اختلافات اور مختلف تاریخی روایات کا موضوع ہے۔