پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کارکنوں، منتخب نمائندوں اور صوبائی وزراء کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران سادہ لباس میں ملبوس افراد کی جانب سے مختلف اضلاع میں کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
وزیراعلیٰ کے مطابق وزیر مواصلات و تعمیرات شکیل خان پر حملہ کیا گیا اور انہیں اغوا کرنے کی کوشش بھی ہوئی، جبکہ وزیر آبپاشی ریاض خان کی رہائش گاہ پر بھی گزشتہ روز نامعلوم افراد پہنچے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈی آئی خان، مردان اور دیگر اضلاع میں بھی پارٹی کارکنوں اور منتخب نمائندوں کو اسی نوعیت کی صورتحال کا سامنا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ مردان میں رکن قومی اسمبلی فضل خان کو مبینہ طور پر اغوا کیا گیا، جبکہ فخر جہان کے گھر پر بھی نامعلوم افراد نے دھاوا بولا۔ ان کے بقول صوبائی وزراء اور منتخب نمائندوں کو نشانہ بنایا جانا ناقابل قبول ہے۔
وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں وفاقی سطح پر سامنے آنے والے بعض بیانات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے رانا ثناء اللہ کے خیبر پختونخوا سے متعلق بیانات اور مریم نواز کے مبینہ بیان کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات صوبوں کے درمیان فاصلے بڑھا سکتے ہیں۔
انہوں نے خیبر پختونخوا کو ملک کے دیگر حصوں سے منقطع کرنے اور راستے بند کیے جانے کے خدشات کا ذکر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ایسے اقدامات کا مقصد کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی وحدت کے خلاف کسی بھی اقدام کی مخالفت کی جائے گی اور خیبر پختونخوا کے عوام پاکستانی تھے، ہیں اور پاکستانی ہی رہیں گے۔
سہیل آفریدی نے مزید الزام عائد کیا کہ سادہ لباس میں ملبوس افراد بیوروکریسی، پولیس، ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے سرکاری افسران کو پیغام دیا کہ وہ غیر قانونی احکامات کی تعمیل سے گریز کریں اور اپنے فرائض آئین و قانون کے مطابق انجام دیں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ احتجاج کرنا شہریوں کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ ان کے مطابق اگر متعلقہ فورمز پر ان کی بات نہیں سنی جاتی تو پرامن احتجاج کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر سہیل آفریدی نے خیبر پختونخوا اور ملک بھر کے عوام پر زور دیا کہ وہ خوفزدہ ہونے کے بجائے اپنے حقوق اور حقیقی آزادی کے لیے پرامن جدوجہد جاری رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئینی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
Lahore 28°C


