کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں سینٹرل بورڈ آف فلم سینسر کے نام سے بھی ایک ادارہ موجود ہے جو گریڈ بیس کے ایک اعلی ترین افسر کی سربراہی میں ایک اچھی خاصی ٹیم اور کئی شعبے رکھتا ہے۔
سینٹرل بورڈ آف سینسر کے بنیادی مقاصد میں ایسے فلموں کی روک تھام شامل ہے جن میں مروجہ اخلاقی معیار اور سماجی اقدار کے خلاف کوئی بات یا منظر یا مکالمہ ہو۔ یا برائی اور جرم کو قابل تعریف بنا کر پیش کیا جاتا ہو۔ یا ملک کے شہریوں کے کسی بھی حصہ کے جذبات اور احساسات کو مجروح کرتا ہو یا قومی امنگوں اور جذبات کے منافی ہو۔
پاکستان میں فلم اور سینما کی صنعت تقریباً تباہ ہو چکی ہے۔ شروع میں جب فلمساز اور رائٹر خود سے سوچ کر فلمیں بناتے تھے، تو سائز میں چھوٹی ہونے کے باوجود ہماری فلمی صنعت بھارت کے ساتھ کانٹے دار مقابلے میں تھی۔ ہماری فلموں میں کہانی ہوتی تھی، جذبات ہوتے تھے اور اداکاری ہوتی تھی، بھارتی فلموں کو ازادانہ رقص اور ایسی حرکات کی آزادی حاصل تھی، جو ہمارے فلمسازوں کو حاصل نہیں تھی۔ پاکستانی فلمسازوں نے لڑ جھگڑ کر یہ آزادی حاصل کرنے کی کوشش کی اور جب اپنے اقدار سے بے نیاز ہوکر بھارتی فلمی صنعت کی نقالی شروع کردی، تو ہماری صنعت ڈوبنے لگی۔ ہمارے فلمسازوں کو یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ فلمیں بجٹ سے چلتی ہیں، اداکاری، کہانی، مکالمہ، تفریح سے چلتی ہیں لیکن اصل چیز مرکزی خیال ہوتا ہے، جو کہ ایک تخلیقی عمل ہے۔
ایران میں باباعزیز کے نام سے ایک ایسی ہٹ فلم موجود ہے جس کا بجٹ ناقابل یقین حد تک کم ہے۔ کل ملا کر دو چار کردار ہیں اور وہ صحرا میں سفر کرتے ہیں۔ یعنی نہ سیٹ کا خرچہ، نہ اداکاری کا۔ اس طرح بہت سی ایرانی فلمیں ہیں جو اپنی کہانی کے بل بوتے پر ناظرین کو مسحور کرکے رکھتی ہیں۔ ترکی نے حال ہی میں ایسے ڈرامے پیش کئے ہیں کہ کسی قسم کی بے پردگی کے بغیر لاکھوں لوگوں نے انہیں پسند کیا۔
پاکستان میں اردو فلمیں کسی زمانے میں قابل قبول تھیں لیکن پھر پنجابی اور پشتو فلمیں سینما مالکان کے تقاضوں کے مطابق بننے لگیں۔ تخلیق اور تنوع کی گنجائش ختم ہونے لگی۔ فلم کا ایک مخصوص سٹرکچر سامنے آیا کہ تیس چالیس سال کا ایک خوبصورت لڑکا اور لڑکی، چند غنڈے، آٹھ دس لڑائیاں، دس بارہ گانے اور ڈانس، اور اگر بجٹ اجازت دے تو پولیس کو بھی بیچ میں ڈال دیں۔ بس اسی سٹرکچر پر آپ نے کہانی بنانی ہے۔
تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومت اور سنسر بورڈ کہاں گئے؟ فلم نہ صرف تفریح کا ایک بڑا ذریعہ ہے بلکہ یہ تعلیم، قومی بیانیہ کے فروغ اور بہت بڑی کاروباری سرگرمی بھی ہے۔ بھارتی فلمی صنعت میں ہزاروں لوگوں کا روزگار اور اربوں روپے کا کاروبار ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں کیا ہوا؟
اس وقت پشتو سوشل میڈیا میں غوغا مچا ہوا ہے کہ اردو ڈراموں میں تسلسل کے ساتھ پشتونوں کی پروفائلنگ ہوتی ہے، انہیں جاہل، چوکیداراور دہشت گرد بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف خود پشتو فلموں میں پشتونوں کا جو کردار پیش کیا جا رہا ہے، وہ نرم ترین الفاظ میں بھی فنون لطیفہ کی توہین ہے۔ تسلسل سے ایسے ڈرامے اور فلمیں بن رہی ہیں، جو عام اخلاقی معیار، سماجی اقدار اور مرکزی سنسر بورڈ کے بیان شدہ مقاصد کے برعکس ہے لیکن سنسر بورڈ کہیں نظر نہیں آتا۔
اچھی فلموں کی تخلیق میں تعاون حکومت اور بالخصوص وزارت اطلاعات و نشریات کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ فلمسازوں کو اچھی فلموں کی تخلیق پر آمادہ کرنا کوئی مشکل نہیں۔ بس ایک مناسب منصوبہ بندی، کچھ توجہ اور فنون لطیفہ کی اہمیت کا ادراک اور احساس کرنے کی ضرورت ہے۔
سنسر بورڈ کا کام صرف پولیسنگ نہیں، کہ فلموں کو منظور یا نامنجور کرے، اداروں کو فلموں کی تخلیق میں مدد بھی فراہم کرنی چاہئے لیکن یہاں تو پولیسنگ والا کام بھی ٹھپ پڑا ہوا ہے۔ سنٹرل سنسر بورڈ کے چیئرمین شہاب حامد صاحب اور پوری وزارت اطلاعات و نشریات کی قابلیت داو پر ہے۔
haqbrother@gmail.com
Lahore 25°C
Karachi 28°C


