7 اکتوبر 1958 کو مارشل لا نافذ کرنے اور 27 اکتوبر 1958 کو صدر مملکت اسکندر مرزا سے استعفیٰ لے کر انہیں ملک بدر کرنے کے بعد آئین معطل کرکے سیاسی فیلڈ مارشل اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر نے سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کر دی۔ آئین معطل کر دیا گیا، سیاستدانوں کی گرفتاریاں شروع ہوئیں اور نظام کی اصلاح کے نام پر ایک نیا نظام متعارف کرایا گیا۔

ایک انتہائی متنازع قانون ایبڈو (Elected Bodies Disqualification Ordinance) نافذ کیا گیا۔ اس قانون کا اطلاق سیاستدانوں پر کرپشن، مس کنڈکٹ اور سیاسی غلط کاریوں کے الزامات کے تحت کیا گیا۔ قومی قیادت کو سیاست سے پاک کرنے کے لیے بنیادی جمہوریت، یعنی Basic Democracies یا بی ڈی سسٹم، 1960 میں نافذ کیا گیا۔

اس نظام کے تحت ہر انتخابی حلقے سے نمائندے منتخب کیے گئے، جنہیں صدر کے انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج قرار دیا گیا۔ پھر ان نمائندوں کے ووٹوں سے صدر مملکت کے عہدے کے لیے صدر ایوب کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔ اس طرح عوامی سطح پر نمائندگی تو ان افراد کو دی گئی، لیکن مکمل اختیارات صدر ایوب نے اپنے ہاتھ میں لے لیے، جس کے بعد ان نمائندوں کا کام محض حاضری لگانا رہ گیا۔

پانچ جولائی 1977 کی شب جنرل ضیاء الحق نے اس وقت جمہوری نظام پر شب خون مارا جب نو جماعتی اپوزیشن اتحاد، یعنی نو ستارے، اور ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان ایک معاہدہ طے پا گیا تھا، جس پر چھ جولائی کی صبح دستخط ہونے تھے۔ اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پابندِ سلاسل کر دیا گیا اور اصلاحات کے بعد 90 روز میں نئے انتخابات کا وعدہ کیا گیا، لیکن یہ 90 دن 11 سال پر محیط ہو گئے۔

یہ مارشل لا ملک کی تاریخ کا طویل ترین مارشل لا ثابت ہوا، جس میں جمہوری نظام کو ایک بار پھر ناکام قرار دیتے ہوئے غیر جماعتی نظام متعارف کرایا گیا اور اسلامائزیشن کے نام پر نت نئے تجربات کیے گئے۔ اس کے تحت ایک غیر جماعتی مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) قائم کی گئی اور مکمل اختیارات صدر جنرل ضیاء الحق نے اپنی ذات میں مرکوز کر لیے۔

ضیاء الحق کے اقدامات پر لکھا تو بہت کچھ جا سکتا ہے، لیکن اگر آپ سے پوچھا جائے کہ کیا آپ ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ چاہتے ہیں اور آپ کا جواب ہاں ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ نے صدر ضیاء الحق کو پانچ سال کے لیے صدر منتخب کر لیا ہے۔ فراڈ ریفرنڈم کے ذریعے خود کو دوسری مرتبہ صدر بنانے والے ضیاء الحق کے دور میں ملک کو سیاسی، اخلاقی اور معاشرتی تنزلی کے ساتھ ساتھ نااہلی، تعلیمی معیار کی تباہی، منافقت اور دہشت گردی جیسی دلدل میں دھنسا دیا گیا، جس سے یہ ملک آج تک اس دلدل سے باہر نہیں نکل سکا۔

ضیاء الحق ایک فضائی حادثے میں اپنے ساتھی جرنیلوں اور امریکی سفیر رابن رافیل سمیت ہلاک ہو گئے تو نئے آرمی چیف مرزا اسلم بیگ نے جمہوری نظام اگرچہ بحال کر دیا، لیکن سیاسی جماعتوں کو مکمل طور پر کام کرنے کی آزادی نہیں دی گئی۔ بلکہ حکومتیں ڈھائی سال، تین سال اور 18 ماہ کے قلیل عرصے میں بھی ضیاء الحق کی آئین میں شامل کی گئی شق 58(2)(b) کے ذریعے برطرف کی جاتی رہیں۔

بالآخر 12 اکتوبر 1999 وہ سیاہ دن ثابت ہوا جب اس وقت کے وزیراعظم نے آرمی جنرل پرویز مشرف کو، جو غیر ملکی دورے سے وطن واپس آ رہے تھے اور فضا میں تھے، برطرف کرکے نیا آرمی چیف مقرر کرنے کی کوشش کی۔ لیکن جنرل پرویز مشرف کے ساتھی جرنیلوں نے وزیراعظم کی یہ کوشش ناکام بنا دی اور سرکاری ٹیلی ویژن ہیڈکوارٹر پر قبضہ کرکے نواز شریف حکومت کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ جنرل مشرف کے ملک میں لینڈ کرنے پر انہیں وزیراعظم ہاؤس لے جایا گیا اور اقتدار پر بٹھا دیا گیا۔

کچھ عرصے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ارشاد حسن خان کی سربراہی میں لارجر بینچ نے جنرل پرویز مشرف کے اقدام کو جزوی طور پر جائز قرار دیتے ہوئے نہ صرف نام نہاد اصلاحات کے لیے تین سال کی مدت تک اقتدار پر براجمان رہنے کی بنیاد فراہم کی بلکہ اس عرصے میں فردِ واحد کو ضروری آئینی ترامیم کا اختیار بھی دیا، جو پرویز مشرف نے عدالت سے مانگا بھی نہیں تھا۔

سابقہ مارشل لا روایات کی طرح پرویز مشرف نے بھی آئین کو طاقِ نسیاں میں رکھتے ہوئے نظام کی اصلاح کا اعلان کیا اور بلدیاتی نظامِ حکومت قائم کیا، جس کے تحت ضلعی سطح کے انتخابات کروائے گئے اور مقصد روایتی صوبائی حکومتوں کے بجائے اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی قرار دیا گیا۔ مگر اختیارات کا مرکز حسبِ معمول جنرل پرویز مشرف خود رہے۔

پھر اپنی ہی بنائی ہوئی کابینہ کے ذریعے اپنی ہی بنائی ہوئی اسمبلی کو برطرف کرنے کے لیے ایمرجنسی پلس نافذ کر کے آئین کو غیر مؤثر کر دیا گیا اور ان ججوں کو، جنہوں نے ان کے حق میں فیصلے نہیں دیے، بشمول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، ان کے گھروں میں نظر بند کر دیا گیا۔

مشرف صاحب اپنی ہی اسمبلی سے دباؤ پر مستعفی ہونے پر مجبور ہوئے اور جلاوطنی اختیار کی۔ پاکستان کے پہلے جنرل ہیں جن کے خلاف وزیراعظم نواز شریف نے آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ چلایا۔ اس کے نتیجے میں جسٹس سیٹھ وقار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے انہیں سزائے موت کا حکم دیا۔ سزائے موت پر عمل درآمد، تاہم، نہ ہو سکا اور جنرل مشرف سزا یافتہ حالت میں وفات پا گئے۔ ان کی موت کے بعد سپریم کورٹ نے بھی سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا۔

مشرف کے بعد اگرچہ سویلین حکومتوں کے آنے اور جانے کا سلسلہ جاری ہے، لیکن آرمی چیف اور سویلین مقتدرین کے مابین اختیارات کی کھینچا تانی کم ہونے کے بجائے مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔

نئے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے کریڈٹ میں آپریشن سندور کا جواب معرکۂ حق سے دے کر انڈیا کو بدترین شکست سے دوچار کرنا شامل ہے۔ پسِ پردہ رہ کر نہ صرف ملکی سطح پر حکومت کو کنٹرول کر رہے ہیں بلکہ عالمی سطح پر دفاعی معاہدوں کے ذریعے شہرت حاصل کر چکے ہیں۔

مگر اس کے باوجود اختیار کی بھوک کم ہونے میں نہیں آ رہی اور اب وہ نظام کو فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور کی تاریخ دہرانے کے درپے ہیں، یعنی سیاستدانوں کی حیثیت زیرو کرنے کے لیے صوبوں کو ضلعی سطح تک تقسیم کرکے ضلعی حکومتیں قائم کرنے اور ان میں من پسند چیف ایگزیکٹوز بٹھا کر اختیار اور اقتدار کا مرکز بننے کو تیار بیٹھے ہیں۔

لگتا نہیں ہے کہ اگلی چند صدیوں تک بھی اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا یہ ملک اصولِ اقتدار کے اس گول چکر سے باہر نکل سکے گا۔