پشاور: نویں جماعت کے طالب علم کو بیالوجی کے تھیوری پرچے میں صفر نمبر دیے جانے کا معاملہ پشاور ہائیکورٹ پہنچ گیا ، جہاں عدالت نے پشاور بورڈ کے کنٹرولر امتحانات کو طالب علم کا اصل پرچہ آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم دے دیا ۔

جسٹس اعجاز انور اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل دو رکنی بینچ نے طالب علم عبدالمعیز خان کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ طالب علم نے نویں جماعت کے امتحانات میں مجموعی طور پر اے ون گریڈ حاصل کیا، تاہم بیالوجی کے تھیوری پرچے میں اسے صفر نمبر دیے گئے۔

درخواست گزار کے وکیل امین الرحمن یوسفزئی ایڈووکیٹ کے مطابق طالب علم نے بیالوجی کے ایم سی کیوز اور عملی امتحان میں 25 میں سے 23 نمبر حاصل کیے، جبکہ تھیوری کے پرچے میں اس کے نمبر صفر رہے۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ طالب علم نے پرچے کی دوبارہ جانچ کے لیے درخواست دی اور بورڈ سے اپنا پرچہ دیکھنے کی اجازت بھی مانگی ، تاہم بورڈ کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ رواں سال طلبہ کو پرچے دکھانے سے متعلق قواعد وضع نہیں کیے گئے۔

سماعت کے دوران وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بعض تعلیمی اداروں میں چیکنگ کے بعد طلبہ کو اپنے پرچے دیکھنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ عدالت نے بھی ریمارکس دیے کہ کئی ممالک میں امتحانی پرچوں کی جانچ کے بعد طلبہ کو انہیں دیکھنے کی سہولت حاصل ہوتی ہے۔

وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پشاور بورڈ سے طالب علم کا پرچہ طلب کرکے عدالت خود اس کا جائزہ لے، جس پر عدالت نے کنٹرولر امتحانات پشاور بورڈ کو آئندہ سماعت پر عبدالمعیز خان کا بیالوجی کا پرچہ پیش کرنے کی ہدایت کردی ۔

عدالت کے حکم کے بعد آئندہ سماعت میں پرچے کا جائزہ لے کر اس معاملے میں مزید کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔