اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پمز اسپتال میں آتشزدگی کے المناک واقعے سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پیش کی گئی۔ وزیراعظم نے رپورٹ میں نشاندہی کیے گئے ذمہ داران کے خلاف فوری محکمانہ اور فوجداری کارروائی کی منظوری دے دی۔

اجلاس میں وزیراعظم کو بتایا گیا کہ واقعے کے دوران نیونیٹل وارڈ میں موجود بچوں کو شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑا اور آگ نے انتہائی کم وقت میں پورے وارڈ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق آگ لگنے اور پورے وارڈ میں پھیلنے کے درمیان تقریباً دو منٹ کا وقفہ تھا۔

تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق پمز میں آگ یا دیگر ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے جامع ایس او پیز اور مناسب تربیتی نظام موجود نہیں تھا۔ اسپتال کے 13 ایس او پیز میں صرف دو ذیلی حصوں میں آگ یا ایمرجنسی صورتحال کا ذکر پایا گیا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ واقعے کے وقت سپروائزری عملہ ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا، جبکہ وارڈ میں دو نرسیں، ایک خاتون سیکیورٹی گارڈ اور ایک ہاؤس آفیسر موجود تھے۔ وارڈ میں فائر الارم اور اسپرنکلر سسٹم بھی نصب نہیں تھا۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کے تقریباً چھ منٹ بعد ایمرجنسی سروسز کو اطلاع دی گئی، جبکہ پہلا ایمرجنسی رسپانس مزید 15 منٹ بعد موقع پر پہنچا۔ اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ جولائی میں پمز کے نرسنگ ہاسٹل میں بھی آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا، تاہم اس کے بعد حفاظتی انتظامات میں مطلوبہ بہتری نہیں لائی گئی۔

وزیراعظم نے تحقیقاتی کمیٹی کی نشاندہی پر پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور ڈاکٹر اویس علی شاہ، نیونیٹل ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینئر رجسٹرار ڈاکٹر نغم، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی پمز محمد عثمان اور سی ڈی اے ایمرجنسی سروسز کے ڈی جی ڈاکٹر عبدالرحمن سمیت متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کی منظوری دی۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دلوانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

اجلاس میں سیکیورٹی پر مامور نجی کمپنی اور اس کے متعلقہ عہدیداران کے خلاف بھی کارروائی کی منظوری دی گئی، جبکہ جن افسران کو عہدوں سے ہٹایا گیا ہے ان کی جگہ نئے افسران کی فوری تعیناتی کی ہدایت کی گئی۔

وزیراعظم نے نیونیٹل وارڈ میں موجود ایک نرس اور خاتون سیکیورٹی گارڈ کو مزید تحقیقات مکمل ہونے تک او ایس ڈی بنانے کی ہدایت بھی کی۔

اجلاس میں اپنی جان کی پروا کیے بغیر بچے کو بچانے والی نرس کی بہادری کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے انہیں ستارۂ خدمت  دینے کی منظوری دی۔

وزیراعظم نے ڈاکٹر محمد سلمان، چیف ایگزیکٹو آفیسر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) کو پمز کا قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر کرنے کی بھی ہدایت کی۔

شہباز شریف نے تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ فوری طور پر عوام کے سامنے لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ وزارتِ قومی صحت کی ویب سائٹ پر جاری کی جائے گی۔ انہوں نے کمیٹی کے سربراہ شاہد خان اور دیگر ارکان کی تحقیقات پر ان کا شکریہ ادا کیا اور مزید تفصیلی رپورٹ مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ معصوم بچوں کی ہلاکت انتہائی افسوسناک اور قومی سطح پر غم کا باعث ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ بچوں کے والدین کے دکھ میں پوری قوم شریک ہے اور واقعے کے ذمہ داران کے خلاف ایسی کارروائی کی جائے گی تاکہ مستقبل میں غفلت کے باعث کسی خاندان کو اس ناقابل تلافی نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔