پاکستان تحریکِ انصاف نے اپنے بانی عمران خان کی رہائی کے لیے 5 اگست سے ملک گیر سیاسی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ عمران خان کی بہن علیمہ خان نے بھی کارکنوں اور پارٹی قیادت سے متحد ہو کر رہائی کی جدوجہد تیز کرنے اور اڈیالہ جیل کی جانب مارچ کی تیاری کی اپیل کی ہے۔

پارٹی کے اندر عمران خان کی رہائی کے بنیادی مطالبے پر کوئی اختلاف دکھائی نہیں دیتا۔ البتہ قیادت اس بات پر زور دے رہی ہے کہ تمام احتجاجی سرگرمیاں پُرامن، منظم اور آئینی حدود کے اندر ہوں، تاکہ کارکنوں کو نقصان پہنچانے یا پارٹی کی جمہوری جدوجہد کو کمزور کرنے کا کوئی موقع نہ ملے۔

پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ عمران خان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کی رہائی کے لیے عوامی، سیاسی اور قانونی محاذوں پر جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ پارٹی کی پارلیمانی قیادت نے بھی 5 اگست سے شروع ہونے والی ملک گیر تحریک کی حمایت کی ہے، جس کا مقصد عمران خان کی رہائی اور دیگر آئینی مطالبات کے لیے پُرامن عوامی دباؤ بڑھانا ہے۔

اس کے ساتھ عمران خان کے وکلا اور اہلِ خانہ عدالتوں سے بھی مسلسل رجوع کر رہے ہیں۔ جیل میں ملاقاتوں، قانونی رسائی اور حراستی حالات سے متعلق متعدد درخواستیں عدالتوں میں دائر کی گئی ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ پارٹی قانونی راستے کو اپنی حکمتِ عملی کا اہم حصہ سمجھتی ہے۔

علیمہ خان کی اپیل اور پارٹی قیادت کی حکمتِ عملی کا مشترکہ مقصد عمران خان کی رہائی ہے۔ فرق صرف طریقۂ کار میں احتیاط کا ہے۔ پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ عوامی قوت کا مظاہرہ بھی ہو، مگر ایسا کوئی قدم نہ اٹھایا جائے جسے کارکنوں کے خلاف کارروائی یا سیاسی تحریک کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

5 اگست کی تحریک پی ٹی آئی کے لیے ایک اہم سیاسی مرحلہ ہوگی۔ پارٹی کی کوشش ہے کہ عوامی حمایت، آئینی جدوجہد اور قانونی کارروائی کو یکجا کرتے ہوئے عمران خان کی رہائی کے مطالبے کو مؤثر اور پُرامن انداز میں آگے بڑھایا جائے