کوئی پسماندہ ضلع نہیں، کوئی قصبہ نہیں، کوئی دیہات نہیں، وفاقی دارالحکومت کا مرکزی ہسپتال، جس کا چلڈرن بلاک باقاعدہ ایک الگ ہسپتال ہے، جو جاپان نے تحفے میں دیا ہے۔ اگر اس کی نومولود بچوں کی نرسری میں، جس کے باہر انتہائی نگہداشت کے شعبے کا بورڈ بھی آویزاں کیا گیا ہے، آگ لگنے سے چودہ بچے جھلس کر جاں بحق ہو جاتے ہیں تو مجھے محسن نقوی سے ہزار اختلافات سہی، لیکن میں اس شخص کی اس ایک بات سے اتفاق کرنے پر مجبور ہو چکا ہوں کہ یہ سسٹم تباہ ہو چکا ہے۔
اور صرف یہ سسٹم ہی تباہ نہیں ہوا، بلکہ اس معاشرے کا فیبرک بھی ٹوٹ کر ایسے الجھ چکا ہے جیسے کٹی ہوئی پتنگ کی ڈور الجھ کر ریزہ ریزہ ہو جائے اور دوبارہ استعمال کے قابل نہ رہے، اور پتنگ کٹ چکی ہو۔
دنیا آپ کو سہولیات، عمارتیں، مشینری بنا بنا کر دے سکتی ہے، آپ میں احساسِ ذمہ داری، اخلاقیات اور تہذیب اپنے اندر خود پیدا کرنی ہوتی ہے، اور یہ تمام خصوصیات اس قوم میں مفقود ہو چکی ہیں۔ یہاں کام چوری، کرپشن اور منافقت عروج پر ہے۔ یہاں بازار میں بچوں کے دودھ سے لے کر مریض کی دوا تک کوئی چیز خالص نہیں ملتی۔ اگر دہائیاں گزرنے کے باوجود ناپ تول اور جرائم کا سدباب نہیں ہو سکا تو کیا یہ سسٹم کی ناکامی نہیں ہے؟
یہاں اگر ایک سرکاری اعلیٰ افسر سے لے کر کلرک تک دفتر میں آنے والے کا کام کرنا تو درکنار، اس سے خوش اخلاقی سے بات کرنے کا بھی روا دار نہیں ہے تو سسٹم کی تباہی اور کسے کہیں گے؟ جس ملک میں سرکاری ہسپتال کا ڈاکٹر مریض کا علاج کرنے کے بجائے اس کی موت کے اسباب پیدا کرتا ہو، کیا وہ ملک اس قابل ہے کہ کوئی یہاں آ کر رہنے یا سرمایہ کاری کرنے کا سوچ بھی سکے؟
یہ وہ سسٹم ہے جہاں حکمران حکومت کرنے کے لیے بھی کسی کی اجازت کے محتاج ہیں، جہاں غریب کی کٹیا طاقت ور کی ہاؤسنگ سوسائٹی کی تعمیر کے لیے غیر قانونی تعمیر قرار دے کر مسمار کردی جائے اور دولت اور طاقت رکھنے والوں کے ٹاور عوام کی بے بسی کا منہ چڑاتے ہوں۔
جہاں کا وزیر اعظم ایک فلائی اوور کی تعمیر کا افتتاح بھی اس وقت تک نہ کر سکے جب تک کہ اپنی تقریر میں آرمی چیف کی تعریف شامل نہ کرے۔ ایک چھوٹا سا سیاست دان آرمی چیف کی تعریف کے بغیر نیوز کانفرنس نہیں کر سکتا۔ امورِ خارجہ وزیر خارجہ کے بجائے آرمی چیف اور وزیر داخلہ چلاتے ہوں۔
سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے باوجود قدم قدم پر ناکے لگائے پولیس عوام کی جیب کاٹنے کے لیے کھڑی ہو۔ شدید گرمی میں آٹھ آٹھ گھنٹے بجلی سے محروم عوام اپنی تنخواہ کا چوتھائی حصہ اس بجلی کے بل میں دینے پر مجبور ہوں جو اس نے استعمال ہی نہیں کی۔ جنگ کے نام پر دگنا سے بھی زیادہ پٹرول مہنگا کر کے عوام کو گھروں میں بٹھا دیا گیا ہو۔ عوام دو کے بجائے صرف ایک وقت کی روٹی تک محدود ہو جائے، صنعتیں بند ہو چکی ہوں اور ملٹی نیشنل کمپنیاں بوریا بستر لپیٹ چکی ہوں، تو پھر یہ بیانیہ سو فیصد درست لگتا ہے کہ نظام تباہ ہو چکا ہے۔
نئے نظام کی ضرورت تو ہے، لیکن کون سے نئے نظام کی؟ جو اس ملک کو بتیس ٹکڑوں میں تقسیم کر کے فردِ واحد کو اختیارات کا مرکز و محور بنا دے اور باقی تمام خرابیاں بدستور موجود رہیں، یا اس نئے نظام کی جہاں آئین اور قانون کی عملداری ہو، جہاں منافقت کی حوصلہ شکنی ہو، جہاں اقربا پروری کے بجائے میرٹ ہو، جہاں ہسپتالوں میں تارا مسیح کے بجائے مسیحا تعینات ہوں، جہاں اسکولوں میں جھوٹی ہسٹری رٹانے کے بجائے ہنر اور اخلاقیات سکھائی جائیں، جہاں دینی اور تعلیمی اداروں میں بچے محفوظ ہوں، جہاں مساجد میں گناہ معاف کروانے کے طریقوں کے بجائے دین پر عمل کرنا سکھایا جائے اور اس امر پر کاربند کیا جائے کہ عبادت عبادت گاہ سے قدم باہر رکھنے کے بعد شروع ہوتی ہے۔
جیسے کہ پاکستان کے علاوہ دیگر مہذب معاشرے تہذیب، اخلاق، اقدار، کامیابی، ہنر اور ترقی کے اوجِ ثریا پر معمور دکھائی دیتے ہیں۔
Lahore 37°C
Karachi 30°C


